’سالانہ 61 لاکھ بچے پیدا، ہم ہر سال ایک نیوزی لینڈ جتنی آبادی پاکستان میں شامل کر رہے ہیں‘
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
کراچی (نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان میں آبادی کے اضافے پر کہا ہے کہ ہم ہر سال نیوزی لینڈ جتنی آبادی اپنے ملک میں شامل کر رہے ہیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال 61 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی ہم اپنے ملک میں ہر سال ایک نیوزی لینڈ جتنی آبادی شامل کر رہے ہیں۔
وزیر صحت نے کہا کہ خطے میں اوسط شرح افزائش 2 فیصد جب کہ پاکستان کا فرٹیلٹی ریٹ 3.
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ تیزی سے بڑھتی آبادی کے باعث پاکستان کا انفرااسٹرکچر متاثر ہو رہا ہے۔ ہر سال زچگی کے دوران 11 ہزار مائیں جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔ پاکستان میں 2 کروڑ 22 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ ہیپاٹائٹس کیسز میں پاکستان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 68 فیصد بیماریاں آلودہ پانی پینے سے ہوتی ہیں۔ قوم کے پاس سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کرنے کا شعور ہی نہیں۔ اس وقت ہر گلی میں بھی اسپتال بنا دیں، تب بھی کمی پوری نہیں ہو سکتی۔ ہمارا صحت کا موجودہ نظام الٹ چل رہا ہے، اس پر مکمل نظر ثانی کی ضرورت ہے اور بیماریوں سے بچاؤ پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیر صحت نے این ایف سی ایوارڈ کی آبادی کے بنیاد پر تقسیم کا شیئر 50 فیصد تک محدود کیا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے بلوچستان پیچھے رہ جاتا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ وزیر اعظم 21 جولائی کو ہیلتھ کے فیس لیس سسٹم کا افتتاح کریں گے۔ اس سسٹم کے تحت پاکستان میں وہیل چیئر سے لے کر ایم آر آئی مشین تک کی امپورٹ بغیر انسانی رابطے کے ہوسکے گی۔
مزید پڑھیں:پاک بحریہ کے افسران اور اہلکاروں کو عسکری اعزازات تفویض، چیف آف دی نیول اسٹاف کی خصوصی شرکت
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاکستان میں کر رہے ہیں کمال نے ہر سال
پڑھیں:
معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ایک معاون خصوصی / وزیر مملکت نے مبینہ طور پر اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروایا ہے،وزیر موصوف کا کہنا ہے کہ انہوں نے تھائی لینڈ سے مساج کروایا تھا،اب وزارت کے سیکرٹری بل پر دستخط نہیں کررہے۔
نوٹ۔ پاکستان میں غربت اور مہنگائی عروج پر ہے اور وزیر مساج کا بل بھی سرکاری کھاتے سے ادا کرنا چاہتے ہیں، کیا لوٹ مار کی گنگا بہہ رہی ہے ۔
مزید پڑھیں۔کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش