بلوچستان کے علاقے سر ڈھاکہ میں معصوم مسافروں کے اغوا اور قتل کے دلخراش واقعے پر حکومتی سربراہان نے شدید ردِعمل دیا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے دہشتگردی کے اس سفاکانہ واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے فتنۂ ہندوستان کی پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کی سازش قرار دیا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے کو نہتے شہریوں کا بزدلانہ قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم دہشتگردوں سے پوری قوت سے نمٹیں گے، بے گناہ افراد کے خون کا بدلہ ضرور لیا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ یہ کھلی دہشتگردی ہے اور ہم عزم، اتحاد اور طاقت سے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: شناخت کی بنیاد پر بسوں سے اتار کر پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 افراد قتل

دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی سانحے پر سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں نے بس سے اتار کر معصوم شہریوں کو بے دردی سے قتل کیا، یہ بربریت دراصل فتنۂ ہندوستان کی پاکستان میں خونریزی کی گھناؤنی سازش ہے۔

صدر زرداری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم اپنی سرزمین کو فتنۂ ہندوستان اور اس کے سہولت کاروں سے ہر صورت پاک کریں گے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی، انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

مزید پڑھیں:

یہ واقعہ نہ صرف ملکی سلامتی کے خلاف سنگین چیلنج ہے بلکہ پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا لمحہ بھی ہے، ریاستی قیادت کے بیانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اب پاکستان دہشتگردی اور اس کے بیرونی سرپرستوں کے خلاف کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف زرداری بلوچستان سرڈھاکہ شہباز شریف صدر مملکت ملکی سلامتی وزیر اعظم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان سرڈھاکہ شہباز شریف صدر مملکت ملکی سلامتی صدر مملکت

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف