فیلڈ مارشل عاصم منیرکے صدر بننے کی کوئی تجویز زیرغور نہیں(وزیرداخلہ)
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
آرمی چیف کی توجہ کا مرکز استحکام پاکستان ہے، صدر زرداری کی تبدیلی سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید
میں جانتا ہوں یہ جھوٹ کون پھیلا رہاہے اور اس پروپیگنڈے سے کس کو فائدہ پہنچ رہا ہے، محسن نقوی
وزیرداخلہ محسن نقوی نے صدر آصف زرداری کی تبدیلی سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے صدر پاکستان بننے سے متعلق کوئی خیال موجود نہیں ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ صدر آصف زرداری،وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو نشانہ بنانے والی مہم کے پیچھے کون ہے۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ صدر آصف زرداری سے استعفیٰ سے متعلق کوئی بحث نہیں ہوئی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے صدر پاکستان بننے سے متعلق کوئی خیال موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ صدرآصف زرداری کے مسلح افواج کی قیادت سے مضبوط اور احترام پر مبنی تعلقات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں یہ جھوٹ کون پھیلا رہا ہے؟ وہ ایسا کیوں کررہا ہے، یہ بھی جانتا ہوں کہ اس پروپیگنڈے سے کس کو فائدہ ہو رہا ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی واحد توجہ پاکستان کا استحکام اور مضبوطی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل محسن نقوی نے کہا کہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔