لاہور (خصوصی نامہ نگار+ آئی این پی) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے 26 معطل ارکان کے خلاف آئینی ریفرنسز پر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ترجمان پنجاب اسمبلی کے مطابق، یہ ریفرنسز آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 63(2) کو آرٹیکل 113 کے ساتھ ملا کر دائر کیے گئے ہیں، جن میں متعلقہ ارکان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی کو یہ ریفرنسز باقاعدہ طور پر موصول ہو چکے ہیں، جن پر آئینی اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شفاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے سپیکر نے تمام 26 معطل ارکان اسمبلی کو ذاتی سماعت کا موقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 10A کے تحت ہر رکن کو شفاف سماعت کا حق حاصل ہے اور پنجاب اسمبلی آئینی دائرہ کار میں مکمل انصاف کو یقینی بنائے گی۔ ذاتی آج سماعت 11 جولائی جمعہ کو صبح 11 بجے، سپیکر کے چیمبر، نئی اسمبلی عمارت، لاہور میں کی جائے گی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی آئینی طور پر 30 روز کے اندر ان ریفرنسز پر فیصلہ کرنے کے پابند ہیں۔ ملک محمد احمد خاں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ریفرنسز پر کارروائی مکمل غیر جانبداری، شفافیت اور آئینی اصولوں کی روشنی میں کی جائے گی تاکہ جمہوری عمل کو مضبوط اور معتبر بنایا جا سکے۔ دوسری جانب اپوزیشن نے اسمبلی کے باہر احتجاجا اپنی اسمبلی لگا لی۔ علامتی اسمبلی میں اپوزیشن رہنما اعجاز شفیع کو سپیکر منتخب کیا گیا، جب کہ دیگر ارکان نے اجلاس میں شرکت کی۔ اسمبلی کے باہر اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے میڈیا سے گفتگو میںکہا ہمیں غیر قانونی طور پر ایوان سے نکالا گیا، اسی لیے ہم اپنی جمہوری اسمبلی لگانے پر مجبور ہوئے۔ یہ فارم 47 کی حکومت ہے اور پنجاب کا بجٹ فراڈ پر مبنی ہے۔ بارش کے بعد پورا لاہور پانی میں ڈوب چکا ہے لیکن حکومت بجائے مسائل حل کرنے کے، جمہوریت کا گلا گھونٹ رہی ہے۔اس دوران پنجاب اسمبلی کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی جبکہ خاردار تار اور بیریئر بھی لگا دیے گئے تھے تاکہ اپوزیشن کے احتجاج کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔ اجلاس میں حکومت کی اخراجات خلاف متفقہ طور پر قرارداد منظور کر لی گئی۔ اپوزیشن ارکان نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی بحران کے شکار عوام کے ساتھ کھلی زیادتی ہے۔ ایم پی اے وقاص احمد ماہر نے قراداد پیش کرتے ہوئے کسانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی اور کسان دشمن پالیسی  پر شدید تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ کاشتکاروں کو ان کی فصلوں پر آنے والی لاگت کے مطابق معاوضہ دیا جائے، فصلوں کے پیداواری اخراجات کے مطابق نرخ مقرر کیے جائیں اور کسانوں کا معاشی قتل بند کیا جائے۔ دوسری قرارداد اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے سابق وزیراعظم و بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف بے بنیاد اور جھوٹے مقدمات بنا کر انہیں جیل میں پابند سلاسل کر رکھا ہے۔ ان سے ان کے فیملی ممبران، وکلاء  اور پارٹی رہنماؤں کو ملاقات کی اجازت تک نہیں دی جاتی اور جیل میں ان کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ ان کی سہولتیں سلب کر لی گئی ہیں۔ قراداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ان کے خلاف من گھڑت مقدمات ختم کیے جائیں اور انہیں جلد رہا کیا جائے۔ فیملی ممبرز، ذاتی ڈاکڑز، وکلاء اور پارٹی رہنماؤں کو جیل مینوئل کے مطابق ملاقات کی اجازت دی جائے۔ اس کے علاوہ دیگر گرفتار پارٹی رہنماؤں مخدوم شاہ محمود قریشی، اعجاز چودھری، میاں محمود الرشید، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، سمیت دیگر پی ٹی آئی گرفتار کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے۔ قراداد اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی۔ تیسری قرارداد ایم پی اے امتیاز احمد شیخ نے پیش کی۔ جس میں جیلوں سے رہا ہونے والے پی ٹی آئی کے ورکرز کی ہپاٹائٹس سی سے ہونے والی شہادتوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں انہیں ایسا کھانا دیا جاتا تھا جو ان کے لیے مضر صحت تھا جو ہپاٹائٹس کا باعث بنتا اور اس سے سب کی اموات واقع ہوئی جس کی مذمت کی گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی اسمبلی کے کرتے ہوئے کے مطابق کیا گیا کے ساتھ

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ