لارڈز پر جو روٹ کی حکمرانی، دہائیوں پرانے ریکارڈز توڑ دیے
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ کے سابق کپتان جو روٹ نے نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے اس میدان پر تینوں فارمیٹس میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز بننے کا اعزاز حاصل کر لیا، انہوں نے 33 میچز میں مجموعی طور پر 2526 رنز بنا کر گراہم گوچ کا 2513 رنز کا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔
بھارت کے خلاف جاری ٹیسٹ میچ کے دوران جو روٹ نے ایک اور سنگِ میل عبور کرتے ہوئے بھارت کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ میں 3000 رنز مکمل کر لیے، اور یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے، اسی میچ میں انہوں نے ٹیسٹ کیریئر میں اپنی 103ویں ففٹی پلس اننگز بھی مکمل کی، جس میں 36 سنچریاں اور 67 نصف سنچریاں شامل ہیں۔
اس فہرست میں وہ جیکس کالس اور رکی پونٹنگ کے برابر دوسرے نمبر پر آ گئے ہیں، جبکہ سچن ٹنڈولکر 119 ففٹی پلس اننگز کے ساتھ سرفہرست ہیں۔
جو روٹ نے بھارت کے خلاف اب تک 33 ٹیسٹ میچز میں 3054 رنز اسکور کیے ہیں، جن میں 10 شاندار سنچریاں شامل ہیں۔ وہ گیری سوبرز اور سچن ٹنڈولکر کے ساتھ ان چند عظیم بلے بازوں میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے کسی غیر ایشیز حریف کے خلاف 3000 سے زائد رنز بنائے۔
جو روٹ اب ایک اور سنگِ میل کی دہلیز پر ہیں، اگر وہ اپنی جاری اننگز میں سنچری مکمل کر لیتے ہیں تو یہ ان کی 37ویں ٹیسٹ سنچری ہو گی، جس سے وہ اسٹیو اسمتھ اور راہول ڈریوڈ کو پیچھے چھوڑ کر 5ویں سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بنانے والے کھلاڑی بن جائیں گے۔ یہ ان کی بین الاقوامی کرکٹ میں 55ویں سنچری بھی ہو گی، جو ہاشم آملہ کے ریکارڈ کے برابر ہو گی۔
کھیل کے اختتام پر انگلینڈ نے 251 رنز پر 4 وکٹوں کے نقصان پر دن کا کھیل ختم کیا، جس میں جو روٹ 99 رنز پر ناٹ آؤٹ جبکہ کپتان بین اسٹوکس 39 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔
دن بھر کے کھیل میں انگلینڈ نے حالیہ ‘بیزبال’ حکمت عملی کے برعکس روایتی ٹیسٹ انداز اپنایا، اور ٹیم کا رن ریٹ 3.
موجودہ عالمی نمبر ایک بیٹر ہیری بروک نے پرجوش آغاز کیا مگر جسپریت بمرا نے انہیں 20 گیندوں پر 11 رنز پر بولڈ کر دیا۔ انگلینڈ کا اس وقت اسکور 172/4 تھا۔ 64ویں اوور میں محمد سراج کی گیند پر اسٹوکس کے سنگل کے ساتھ ٹیم نے 200 رنز مکمل کیے۔
اس کے بعد جو روٹ اور بین اسٹوکس نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 100 گیندوں پر 50 رنز کی شراکت قائم کی اور دن کے اختتام تک مزید کوئی وکٹ نہ گرنے دی۔ جو روٹ اپنی سنچری سے محض ایک قدم دور، 99 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔
اس سے قبل دن کے آغاز پر نتیش کمار ریڈی نے پہلی سیشن میں 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ جدیجا اور بمرا نے بعد ازاں ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
یہ دن مجموعی طور پر انگلینڈ کی جانب سے محتاط مگر مربوط بیٹنگ حکمت عملی کا عکاس تھا، جو حالیہ تیز رفتار طرزِ کھیل سے ایک مختلف انداز تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انگلینڈ بھارت بین اسٹوکس جو روٹ ریکارڈ سنچریاں کرکٹ گراؤنڈ گراہم گوچ لارڈز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انگلینڈ بھارت بین اسٹوکس جو روٹ ریکارڈ سنچریاں کرکٹ گراؤنڈ لارڈز کے خلاف کے ساتھ جو روٹ
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔