بھارت کو جھٹکا ،چین نے دریائے برہما پترا ڈیم کی تعمیر شروع کردی
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
بیجنگ (اوصاف نیوز)چین نے دریائے برہما پترا پر ایک سو سینتیس ارب ڈالر کی لاگت سے ڈیم کی تعمیر شروع کردی۔
ذرائع کے مطابق چین نے تبت کے دریائے یارلنگ سانگپو میں دنیا کا سب سے بڑا پن بجلی منصوبہ شروع کردیا، جس سے 60 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوسکے گی۔
چین کے دریائے برہما پترا ڈیم منصوبے نے بھارت میں خوف کی فضا پیدا کردی، بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے وزیراعلیٰ پیما کھنڈو نے چین کے زیر تعمیر میگا ہائیڈرو پاور ڈیم کو بھارت کے لیے ”پانی کا ایٹم بم“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر چین نے اچانک پانی چھوڑ دیا تو آسام اور اروناچل کے قبائلی علاقوں میں تباہی مچ جائے گئی۔
اروناچل کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ چین نے پانی کی بین الاقوامی تقسیم کے معاہدے پر دستخط نہیں کئے اور یہی بھارت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے، انہوں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ڈیم کی وجہ سے براہما پترا اور سیانگ دریاؤں کا پانی کافی حد تک خشک ہو سکتا ہے۔
ملک بھر میں 11 سے17جولائی تک مون سون بارشیں، طغیانی کا خطرہ ،الرٹ جاری
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: چین نے
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔