ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارت میں 25% سے زیادہ اضافہ ہوا، اور ہم دونوں ممالک کے درمیان مزید معاشی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ، محمد اسحاق ڈار کے ساتھ ہونے والی ملاقات اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر خوشی کا اظہار کیا۔

Turut menerima kunjungan hormat Timbalan Perdana Menteri merangkap Menteri Luar Pakistan, Mohammad Ishaq Dar dan bicara kami menyentuh persiapan lawatan rasmi Perdana Menteri Shehbaz Sharif ke Malaysia tidak lama lagi, di mana beberapa MoU dijangka dimeterai.

Alhamdulillah,… pic.twitter.com/rgvKJTRmaq

— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) July 11, 2025

انور ابراہیم نے اپنے بیان میں کہا، ’پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ اہم ملاقات ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف کے ملائیشیا کے متوقع دورے اور ہمارے اقتصادی تعلقات کے مستقبل پر بات چیت کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تجارت میں 25% سے زیادہ اضافہ ہوا، اور ہم دونوں ممالک کے درمیان مزید معاشی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

یہ بھی پڑھیے وزیراعظم شہبازشریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

وزیراعظم انور ابراہیم نے اسحاق ڈار کے ساتھ اپنی ملاقات کے حوالے سے مزید کہا،’ ہم نے ملائیشیا پاکستان کے مابین قریب تر اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (MPCEPA) پر کام کرنے کا عزم کیا اور حلال گوشت کی برآمدات اور زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات میں مزید مضبوطی آئے گی اور ہم آسیان کے ساتھ پاکستان کے روابط کے مزید استحکام کے لیے کام کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان اور ملائشیا کا دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری پر مبنی تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق

انور ابراہیم نے جموں و کشمیر کے مسئلے پر ملائیشیا کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ملائیشیا پاکستان کے حق میں پُرامن حل کی حمایت کرتا ہے اور اس بات کا پختہ یقین رکھتا ہے کہ اس تنازعہ کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان ملائشیا نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار وزیراعظم ملائشیا انور ابراہیم

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان ملائشیا نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار وزیراعظم ملائشیا انور ابراہیم اور ملائیشیا کے انور ابراہیم نے پاکستان اور پاکستان کے کے درمیان تعلقات کو اسحاق ڈار کے ساتھ اور ہم کے لیے

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیئرمین سینیٹ سے اٹالین سفیر کی غیر رسمی ملاقات ،دونوںملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد