60 روزہ جنگ بندی کے دوران مستقل جنگ بندی کےلیے بات چیت کریں گے، اسرائیلی وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں مجوزہ 60 روزہ جنگ بندی کے دوران مستقل جنگ بندی کےلیے بات چیت کریں گے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ جنگ بندی کے لئے مذاکرات کئے جائیں گے لیکن اگر اسرائیل کی شرائط اس مدت میں پوری نہ کی گئیں تو ان پر فوجی طاقت سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور غزہ کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنا، غزہ پر حکمرانی سے دستبرداری اور فوجی صلاحیتوں کا خاتمہ بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اگر 60 دن کی جنگ بندی کے دوران ہماری شرائط پوری نہ ہوئیں، تو ہم انہیں طاقت کے زور پر پورا کرائیں گے۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لئے بلواسطہ مذاکرات قطر میں اتوار سے جاری ہیں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جنگ بندی کے نے کہا
پڑھیں:
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
اسلام ٹائمز: کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔ اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث، وضو، صوم، صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسینؑ میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔ اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث، وضو، صوم، صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی، تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔