پاکستانی وفد کی روس کے نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک سے ماسکو میں ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
معاون خصوصی طارق فاطمی نے روس کے نائب وزیراعظم اور روسی قیادت کو پاکستان کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچاتے ہوئے زور دیا کہ دونوں ممالک کی قیادت کی سطح پر خیرسگالی پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں بہتری کی مثبت رفتار کو یقینی بنارہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ روسی نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس قدرتی اتحادی ہیں جب کہ صدر ولادیمیر پیوٹن پاکستان کو معیشت اور توانائی کے شعبوں میں اہم اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتے ہیں۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی کی قیادت میں معاون خصوصی صنعت و پیداوار و فوکل پرسن برائے پاکستان اسٹیل ملز ہارون اختر خان سمیت وفد نے روس کے نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک سے ماسکو میں ملاقات کی۔
معاون خصوصی طارق فاطمی نے روس کے نائب وزیراعظم اور روسی قیادت کو پاکستان کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچاتے ہوئے زور دیا کہ دونوں ممالک کی قیادت کی سطح پر خیرسگالی پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں بہتری کی مثبت رفتار کو یقینی بنارہی ہے۔ ملاقات کے دوران فریقین نے سیاسی، تجارتی اور اقتصادی تعاون کے علاوہ توانائی، کمیونیکیشن صنعتی اور زرعی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اس موقع پر طارق فاطمی کا کہنا تھا کہ پاکستان روسی فیڈریشن کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، روس کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر روس کے مستحکم کردار کا خواہشمند ہے۔ کراچی میں نئے اسٹیل ملز منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان اور روس کے تاریخی تعلقات کی علامت ہے اور مستقبل کے تعاون کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔
واضح رہے کہ 13 مئی کو پاکستان اور روس نے کراچی میں نئی اسٹیل ملز کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا اعلان پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کی ایک پریس ریلیز میں کیا گیا تھا۔ دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں، بشمول سیاسی، تجارتی، معاشی، توانائی، رابطہ کاری، صنعتی اور زرعی تعاون کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ جنوبی ایشیا، افغانستان اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ جغرافیائی اور علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، مئی میں بھارت کی پاکستان کے خلاف جارحیت کے دوران روس نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی۔
ملاقات کے دوران روس کے نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک نے ستمبر 2024 میں اپنے دورہ پاکستان اور اکتوبر 2024 میں اسلام آباد میں منعقدہ ایس سی او سربراہی کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا خوشگوار انداز میں ذکر کیا۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق روسی نائب وزیرِ اعظم نے دو طرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان اہم رابطہ کاری منصوبوں، جیسے ازبکستان، پاکستان اور روس کے درمیان ریلوے رابطہ اور اگست 2025 میں پاکستان اور روس کے درمیان پائلٹ کارگو ٹرین چلانے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ روس کے نائب وزیراعظم نے بتایا کہ صدر پیوٹن پاکستان کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے حق میں ہیں اور وہ اگست میں چین کے شہر تیانجن میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شہباز شریف سے ملاقات کے منتظر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان اور روس کے درمیان روس کے نائب وزیراعظم معاون خصوصی دونوں ممالک طارق فاطمی کے ساتھ دو طرفہ
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین