ای کامرس برآمدات میں خاطر خواہ اضافے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے؛ وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
سٹی 42 : وزیراعظم شہباز شریف سے بین الاقوامی ای کامرس کمپنی علی بابا گروپ کی انٹرنیشنل مارکیٹس کے صدر، جیمز ڈونگ کی قیادت میں علی بابا گروپ کے 6 رکنی وفد کی ملاقات ہوئی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ملک میں ای کامرس کو مزید فروغ دینے کا لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی۔ شہباز شریف نے کہا کہ علی بابا گروپ جیسے ای کامرس پلیٹ-فارمز پر اس وقت تین لاکھ سے زائد پاکستانی مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات فروخت کر رہے ہیں۔
ذیا بیطس کے مریضوں کو جان لیوا کیفیت سے بچانے کیلئے ڈیوائس تیار
وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ ای کامرس پلیٹ-فارمز پر مصنوعات فروخت کرنے والے پاکستانی کاروباروں کی تعداد میں مزید اضافے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں ای کامرس برآمدات میں خاطر خواہ اضافے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ ای کامرس حکومت کے برآمدات پر مبنی معیشت کے ویژن کی تکمیل کے عمل کا ایک انتہائی اہم عنصر ہے۔
جیمز ڈونگ نے بین الاقوامی سطح پر ای کامرس کے ذریعے تجارت میں پاکستانی کاروباری برادری کے کلیدی کردار کو سراہا، کہا کہ اس وقت علی بابا ویب سائٹ پر تین لاکھ سے زائد پاکستانی مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات فروخت کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ علی بابا کے پلیٹ-فارم پر پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی مانگ اور فروخت سب سے ذیادہ ہے، پاکستان میں ای کامرس کو مزید وسعت دینے کی لا محدود استعداد موجود ہے۔
وزیر اعظم نے شیخہ اسماء الثانی کو پاکستان کی ماؤنٹینز اینڈ ٹورازم کیلئے برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کردیا
جیمز ڈونگ نے علی بابا گروپ پر پاکستانی تاجروں کی تعداد بڑھانے کے لیے انٹرپرنیورز کی ای کامرس میں تکنیکی تربیت میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، چئیرمین ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: علی بابا گروپ
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔