کراچی: ٹریفک کیمروں کی نگرانی کے دوران وائرل تصویروں پر ڈی آئی جی ٹریفک کا بیان آگیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس (ڈی آئی جی ٹریفک) کراچی پیر محمد شاہ نے کہا ہے کہ ٹریفک کنٹرول کیمروں کی نگرانی کے دوران شہریوں کی نجی سرگرمیوں سے متعلق وائرل ہونے والی دو تصاویر پر باضابطہ انکوائری جاری ہے۔ ایک نجی نیوز پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ امکان ہے کہ پیر تک تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرلی جائے گی تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ تصاویر واقعی ٹریفک کنٹرول کیمروں سے حاصل کی گئیں یا کسی نجی کیمرے سے۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ نمبر پلیٹ میں ردوبدل یا اس پر جعلی اقدامات کے ذریعے ٹریفک کنٹرول سسٹم کو دھوکہ دینے والے افراد دراصل معمولی خلاف ورزیوں سے بچنے کی کوشش میں خود کو بڑے قانونی مسائل میں مبتلا کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی تمام گاڑیاں بلیک لسٹ کی جائیں گی اور پکڑے جانے پر براہِ راست مقدمہ درج کیا جائے گا۔
دوسری جانب، آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے صوبے بھر میں بغیر نمبر پلیٹ چلنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کیے ہیں اور متعلقہ افسران کو روزانہ کی بنیاد پر کارروائی کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔