چین غزہ میں جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کے لئے کوشش کرتا رہے گا، چینی وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
چین غزہ میں جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کے لئے کوشش کرتا رہے گا، چینی وزیر اعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 11 July, 2025 سب نیوز
قاہرہ:
چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے قاہرہ میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔چینی میڈیا کے مطابق
لی چھیانگ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دونوں سربراہان مملکت کی اسٹریٹجک رہنمائی میں چین مصر تعلقات کو فروغ ملا ہے۔ چین اگلے سال چین اور مصر کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی سترہویں سالگرہ کے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے روایتی دوستی کی ترقی ، سیاسی باہمی اعتماد کے استحکام ، ایک دوسرے کے بنیادی مفادات سے متعلق امور پر مضبوط حمایت جاری رکھنے، چین مصر جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے مواد کو مسلسل توسیع دینے، مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں مزید کامیابیاں حاصل کرنے اور نئے دور کے پیش نظر چین مصر ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے مصر کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے ۔
چین کے وزیر اعظم نے کہا کہ چین بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے فریم ورک کے تحت مصر کے ساتھ معیشت اور تجارت، مالیات، مینوفیکچرنگ، نئی توانائی، سائنس و ٹیکنالوجی اور ثقافت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کےلیے تیار ہے اور مزید چینی کاروباری اداروں کی مصر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بین الاقوامی صورتحال کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ چین مصر کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھتے ہوئے غزہ میں جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے، انسانی بحران کو کم کرنے، تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے اور فلسطین کے مسئلے کے جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کے لئے کوشش کرتا رہے گا ۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ چین مصر کا مخلص دوست ہے اور سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ہمیشہ مستقل اور ہموار ترقی ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مصر ایک چین کے اصول پر سختی سے کاربند ہے اور چین کے ساتھ قریبی اعلیٰ سطحی تبادلوں کو برقرار رکھنے، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی مشترکہ تعمیر کو آگے بڑھانے اور معیشت و تجارت، سرمایہ کاری، نئی توانائی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے لیے تیار ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس ریکارڈ سطح پر، ڈالر سستا ہوگیا کتنی ہی’’مشقیں‘‘ کی جائیں، “تائیوان کی علیحدگی” ناکام ہوگی، چینی ریاستی کونسل افغان طالبان نے عالمی فوجداری عدالت کے سپریم لیڈر کی گرفتاری وارنٹ کو مسترد کر دیا ٹرمپ کا فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنے کا منصوبہ سامنے آگیا، نیتن یاہو کا دو ریاستی حل سے انکار غزہ میں فلسطینی مزاحمت کاروں کا کاری وار، اسرائیلی فوج کو بھاری نقصان، 5 فوجی ہلاک، 14 زخمی ایلون مسک کو نئی امریکی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان مہنگا پڑ گیا برطانیہ نے ایران میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھول دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ چین مصر کرنے کے کے ساتھ مصر کے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔