صنعت سے سیاحت تک، ایس آئی ایف سی کے اقدامات سے ترقی کی نئی راہیں ہموار
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل یعنی ایس آئی ایف سی کے قیام کے دو برس مکمل ہونے پر پاکستان کی معاشی، صنعتی اور سیاحتی ترقی سے متعلق ایک خصوصی رپورٹ جاری کی گئی ہے، جس میں مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیوں اور پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
ایس آئی ایف سی کے پلیٹ فارم سے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں، اداروں اور حکومتوں کے ساتھ اشتراک سے پاکستان نے ترقی کے کئی نئے باب رقم کیے ہیں۔
صنعت و برآمدات: عالمی ویلیو چین میں شمولیتایس آئی ایف سی کی سرپرستی میں پاکستان میں سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کے قیام سے عالمی ویلیو چین میں شمولیت کی راہ ہموار ہوئی ہے، جب کہ کولڈ چین لاجسٹکس کے شعبے میں نیشنل لاجسٹکس سیل نے ریفریجریٹڈ کنٹینرز سروس متعارف کرا کر اہم پیش رفت کی ہے۔
ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بحالی کے لیے توانائی سبسڈی میں کمی، بہتر پالیسی سازی اور ایل ایس ایم انڈیکس میں بہتری لانے جیسے اقدامات کیے گئے، جبکہ صنعتی برآمدات بڑھانے کے لیے امریکا اور پی ای ایل جیسے شراکت داروں کے ساتھ اشتراک بھی کیا گیا۔
سرمایہ کاری اور خصوصی اقتصادی زونزسرمایہ کاری کے میدان میں ایس آئی ایف سی کی کوششوں سے پاکستان میں سالانہ 41 فیصد ایف ڈی آئی یعنی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں صرف معدنیات، مینوفیکچرنگ اور توانائی کے شعبوں میں 1.
بی وائی ڈی اور دیگر عالمی صنعتی اتحاد کے اشتراک سے پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کی ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی ہے، جس سے پائیدار نقل و حمل کے شعبے میں انقلاب متوقع ہے۔
سیاحت کا فروغ: انفرااسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور روزگارسیاحتی ترقی کے حوالے سے ٹھنڈیانی، گانول اور سندھ میں تھیم پر مبنی سیاحتی زونز کا قیام عمل میں لایا گیا، جبکہ گلگت بلتستان میں 44 گیسٹ ہاؤسز کی بحالی سے 4,000 سے زائد مقامی افراد کو روزگار ملا۔
سیاحتی خدمات کی موبائل ایپ کے ذریعے مقامی گائیڈز اور سہولیات تک آسان رسائی کو ممکن بنایا گیا ہے، جبکہ 126 ممالک کے لیے ویزا آن آرائیول اور جی سی سی ممالک کے لیے ویزا فری انٹری سے بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں اضافہ متوقع ہے۔
برلن میں 2025 کے عالمی آئی ٹی بی ایونٹ میں شرکت سے پاکستان کی عالمی سیاحتی شناخت کو تقویت ملے گی۔
نجکاری اور توانائی اصلاحات: شفافیت اور رفتارایس آئی ایف سی نے نجکاری کے شعبے میں بطور ٹرانزیکشن ایڈوائزر شمولیت اختیار کر کے پی آئی اے، ڈسکوز اور دیگر غیر تذویراتی اداروں کی نجکاری میں شفافیت اور تیزی متعارف کرائی ہے، وزیراعظم کی ہدایت پر غیر ضروری اداروں کی نجکاری کے لیے واضح پالیسی اور اعلیٰ سطحی نگرانی کو ممکن بنایا گیا ہے۔
ڈسکوز کی نجکاری اور اصلاحات کے لیے کابینہ کمیٹی، بین الوزارتی ورکنگ گروپ اور ون ونڈو اپروول سسٹم قائم کیے گئے، جبکہ دوست ممالک کے ساتھ توانائی معاہدوں کی منظوری بھی ایس آئی ایف سی کی ایپکس کمیٹی کے تحت دی گئی ہے۔
نتیجہ: ترقی کی جانب گامزن پاکستانایس آئی ایف سی کی بدولت پاکستان نہ صرف معاشی و صنعتی میدان میں اہم سنگ میل عبور کر رہا ہے بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہو رہا ہے۔ اس مربوط حکمت عملی سے ملک میں روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں، برآمدات کو تقویت مل رہی ہے، اور پاکستان ترقی کی ایک نئی سمت کی جانب رواں دواں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپروول سسٹم امریکا ایس آئی ایف سی بین الوزارتی ورکنگ گروپ ٹرانزیکشن ایڈوائزر سیاحت سیاحتی ترقی صنعت صنعتی کابینہ کمیٹی کولڈ چین لاجسٹکس گلگت بلتستان معاشی نیشنل لاجسٹکس سیل ون ونڈو ویزا فری انٹری
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایس آئی ایف سی بین الوزارتی ورکنگ گروپ ٹرانزیکشن ایڈوائزر سیاحت سیاحتی ترقی صنعتی کابینہ کمیٹی گلگت بلتستان نیشنل لاجسٹکس سیل ون ونڈو ویزا فری انٹری ایس آئی ایف سی کی سرمایہ کاری سے پاکستان کے لیے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔