نانگا پربت سر کرنے والی قطری شہزادی پاکستان کی برانڈ ایمبیسڈر مقرر
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیراعظم شہباز شریف نے قطری شہزادی شیخہ اسماء الثانی کو پاکستان میں پہاڑوں اور سیاحت کے شعبے کے لیے برانڈ ایمبیسڈر مقرر کر دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ انہیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ عزت مآب شیخہ اسماء کو پاکستان کی سیاحت اور بلند و بالا پہاڑوں کے فروغ کے لیے برانڈ ایمبیسڈر نامزد کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے شہزادی شیخہ اسماء کو نانگا پربت کی حالیہ کامیاب سرکردگی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارنامہ واقعی قابلِ فخر اور متاثر کن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہزادی کی یہ کامیابی نہ صرف ہمت، عزم اور حوصلے کی علامت ہے بلکہ یہ پاکستان اور قطر کے درمیان گہری اور پائیدار دوستی کی ایک خوبصورت مثال بھی ہے۔
یاد رہے کہ شہزادی شیخہ اسماء نے حال ہی میں 8,126 میٹر بلند نانگا پربت کو سر کیا، جس کے ساتھ ہی وہ یہ کارنامہ انجام دینے والی پہلی قطری خاتون بن گئی ہیں۔
انتہائی خطرناک موسم اور دشوار گزار راستوں کے باوجود انہوں نے نانگا پربت، جسے ’قاتل پہاڑ‘ بھی کہا جاتا ہے، پر قطر کا پرچم لہرایا۔ یہ ان کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے کی عالمی مہم کا نواں کامیاب مرحلہ ہے، جو انہیں دنیا کے نمایاں کوہ پیماؤں کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے۔
شہزادی شیخہ اسماء کی یہ کامیابی نہ صرف قطر کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ خواتین کو بااختیار بنانے کے عالمی پیغام میں بھی ایک نمایاں اضافہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہزادی شیخہ اسماء نانگا پربت
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔