ایس آئی ایف سی کے تحت توانائی شعبے کی ترقی کا سفرتیزی سے جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت پاکستان کا توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب سفر تیزی سے جاری ہے۔
حکومت وژن 2031کے تحت کوئلے اور فرنس آئل سے پن بجلی، شمسی توانائی اورسی این جی کی طرف منتقلی سمیت قابل تجدید توانائی کو فروغ دینے کیلئے کئی منصوبوں پر کام کررہی ہے۔
اُدھر عالمی بینک نے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کیلئے چودہ کروڑ ستانوے لاکھ ڈالر کی منظوری دی ہے۔
کوئلے، گیس اور تھرمل پاور پلانٹ کی اپ گریڈیشن سمیت کئی دیگر منصوبوں پر تیزی سے پیشرفت جاری ہے۔
ایس آئی ایف سی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سعودی عرب، آذربائیجان اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔
اشتہارذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
بجلی کے شعبے میں مسائل کے حل کیلئے عوامی ہیلپ لائن 118 کا افتتاح
سٹی 42 : بجلی کے شعبے میں مسائل کے حل کے لئے عوامی ہیلپ لائن 118 کا افتتاح کردیا گیا۔
وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے ہیلپ لائن کا افتتاح کیا، بتایا گیا ہے کہ ہیلپ لائن کے ذریعے بجلی کے شعبے کی شکایات فری درج کرائی جاسکیں گی، ہیلپ لائن کے ذریعے شکایات ٹریک اینڈ ٹریس بھی ہوسکیں گی۔ صارفین نمائندے کی بجائے براہ راست سسٹم میں شکایت سرج کراسکیں گے۔
صارفین سات مختلف زبانوں میں شکایات درج کراسکیں گے، شکایت کاازالہ ہونے پر متعلقہ صارف کو روبوٹک فیڈ بیک کال کی جائے گی۔ شکایت کا ازالہ نہ ہونے پر وہ شکایت دوبارہ ایکٹو ہوجائے گی۔
پاکستان نے افغانستان سے تاجکستان سرحد پر چینی شہریوں پرحملہ بزدلانہ فعل قرار دیدیا
وفاقی وزیر پاور اویس لغاری نے اپ گریڈ شدہ ہیلپ لائن 118 کی لانچنگ تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ اس سسٹم کے تحت شکایات سامنے آئیں گی، اس نظام سے پاور سیکٹرمیں خوداحتسابی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم فیلڈ مارشل اور حکومتیں شامل حال نہ ہوتیں توبہت کچھ حاصل نہ کرپاتے، آج کے بعد ایک ایک نااہلی سامنے آئے گی جسکی ذمہ داری ہمیں اٹھانی ہوگی، ذمہ داری کے بعد کچھ اقدامات کرنا ہوں گے۔
اویس لغاری نے کہا کہ میرے گھر کی بجلج جاتی تھی تو کال اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا تھا، ہم نے لوگوں کو اس سسٹم سے آزاد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبران اسمبلی ٹرانسفرز کا اس لئے کہتے ہیں تاکہ ان کے کام ہوسکیں، کوشش کررہے کہ سب کو برابری کی سطح پر کھڑا کریں۔ وزارت توانائی میں شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جب تک ہم خود کو ایکسپوز نہیں کریں گے خود احتسابی نہیں ہو سکتی۔
شہر کی فضا بدستور آلودہ،سول سیکرٹریٹ میں آلودگی کی شرح خطرناک حد سے تجاوز کر گئی
وزیر توانائی نے بتایا کہ ہیلپ لائن کے اس پروگرام میں لائن مین تک سب کی غلطیاں سامنے آئیں گی، اپنی غلطیوں کی ذمہ داری بھی ہمیں ہی اٹھانی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں خود 2017 سے 2018 اسی محکمے کا وزیر رہا ہوں۔ شکایات کے ازالے مصبیت سے نکلنے کیلئے یہ بہترین اقدام ہے، ہمارے سیاسی ڈیروں پر پولیس سے زیادہ بجلی کی شکایات آتی ہے۔
وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ ملک میں جتنے بجلی صارفین ہیں ان سب تک اس اقدام کا اثر جائے گا، سی ای اوز سے اپیل ہے کہ اسس سسٹم کو کامیاب بنائیں، سسٹم کی کامیابی کے بعد کمپنیوں کے لوگوں کو جتنا ممکن ہوا ایوارڈ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈسکوز اور ڈیٹا گیدرنگ پر انحصار کررہے ہیں، اور ڈیٹا میں ہیر پھیر ہوا تو اس سسٹم کا کوئی فائدہ نہیں۔
بلوچستان میں نان کسٹم پیڈگاڑیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ