Juraat:
2026-07-24@05:07:17 GMT

واقعہ کربلا حق و باطل کے درمیان کائنات کا سب سے عظیم معرکہ

اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT

واقعہ کربلا حق و باطل کے درمیان کائنات کا سب سے عظیم معرکہ

ریاض احمدچودھری

واقعہ کربلا حق و باطل کے درمیان کائنات کا سب سے عظیم معرکہ ہے جس میں نواسہ رسول ۖ حضرت امام حسین اور انکے خاندان نے حق کی سربلندی کی خاطر جو لازوال قربانی پیش کی وہ رہتی دنیا کے انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ واقعہ کربلا غیر متزلزل ایمان، بہادری، استقامت، جرات، صبر اور ایثار کی لازوال مثال ہے۔پچھلے کچھ عرصہ سے نام نہاد تنظیموں نے جہاد کے نام پر بنی نوع انسان اور انسانیت کے قتل کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اس سے جہاد کا مقصد پورا نہیں ہوتا بلکہ مسلمان اور اسلام بھی بدنام ہو رہے ہیں۔ اصل جہاد اللہ کے احکامات کو بجا لانا ہے اور یہی بہترین جہاد ہے۔صبر کا مطلب ظالم کے ہر ظلم پر خوف یا مجبوری سے خاموش رہنا نہیں بلکہ اس کے خلاف کلمہ حق کہنا اور حق کی راہ میں لڑتے ہوئے شہید ہونا بھی صبر کے زمرے میں آتا ہے۔ حضرت امام حسین نے بھی قربانی دے کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔
یہ فسادی لوگ جو کہ دین میں فتنہ پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ ہمیں ایک قوم کی طرح ہر حال میںمتحد ہو کر انہیںپہچان کر شکست دینی ہے۔ وہ ہمیں دیمک زدہ درخت کی طرح اندر سے کھوکھلاکرنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں اتحاد و محبت سے مل کر انہیں اپنی جڑوں سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ اگر کسی مذہب کو اخوت، باہمی اخلاق و تہذہب اور اتحاد کی دولت فروانی اور کثرت سے عطا کی گئی ہے تو وہ مذہب اسلام ہے۔ اسلام کی فیاضی اور کشادہ دلی اس کی امتیازی شان ہے۔ وہ امیر و غریب کو اپنی شفیق آغوش میں پناہ دیتا ہے۔ اچھوت پن کی لعنت دور کرنے کی طاقت صرف اسلام میں ہے۔ اسلام احترام کا درس دیتا ہے جو امن اور محبت کا پیغام ہے۔ مسلمان تمام انبیاء کرام اور ان کے پیغام کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ اس لئے ہمارا پیغام نفرت کیسے ہو سکتا ہے؟ اس مرتبہ بھی سرکاری سطح پر محرم الحرام میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کی فضاء برقرار رکھنے کے لئے وسیع بنیادوں پر اقدامات کئے گئے ہیں تاہم اس سلسلے میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کے گرانقدر کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو امن سلامتی اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے مثالی خدمات انجام دے رہے ہیں جن کی معاونت ومشاورت سے عشرہ محرم انتظامات کو بھی کامیاب بنائیں گے۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں اور دشمن کوکسی قسم کی تخریب کاری کا موقع نہ دیں۔ وطن عزیز سے محبت،سلامتی اور قومی وحدت کا تقاضا ہے کہ امن کو فروغ دیا جائے۔
محرم الحرام کے حوالے سے سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے جارہے ہیں جن کا جائزہ لینے کے لئے پنجاب کابینہ سب کمیٹی کی طرف سے صوبہ بھر میں ڈویڑنل ہیڈ کوارٹرز کے دورے جاری ہیں تاکہ محر الحرام کی تیاریوں میں کوئی خلاء باقی نہ رہے۔ علماء کرام اور مذہبی رہنماؤں کی تجاویز کی روشنی میں محرم انتظامات کو مزید مستحکم اور جامع بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ بیرونی عناصر پاکستان کو مستحکم اور قوم کو متحد نہیں دیکھ سکتے لیکن ہمیں اتحاد واتفاق قائم رکھتے ہوئے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانا ہے۔
دہشت گردی اسلام کا وطیرہ نہیں بلکہ یہ عفوو درگزر کا درس دیتا ہے جو امن کی ضمانت ہے مگر مسلمانوں کو بنیاد پرست، انتہا پسند اور دہشت گرد قرار دے کر بدنام کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں غلط تاثرات کے خاتمے کیلئے بار آور کوششیں ہونی چاہیں۔کئی ایک گروہ امت مسلمہ میں فتنہ پھیلانے میں مصروف ہیں تاکہ مسلمان آپس میں کٹ مریں۔ ابلیسی قوتوں کو پاکستان کا استحکام اور مضبوطی کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اسلامی ممالک میں واحد ایٹمی طاقت ہے۔ اسلام کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان یا انسان کی بلاوجہ جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام تو امن و سلامتی کا علمبردار ہے۔اسلام کسی بھی صورت میں کسی مسلم یا غیر مسلم کو دہشت گردی یا خود کش حملوں کے ذریعے جان سے مارنے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے اور قرآن نے ایسے لوگوں کو سخت عذاب کی بشارت دی ہے۔ ہمیں اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا اور ایسے تمام عناصر کو بے نقاب کرنا ہوگا جو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔
ہم نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو چھوڑ کر فروعی اختلافات کو اوڑھنا بچھو ڑ نا بنا کر فرقہ واریت کی ایسی ریت قائم کر دی ہے کہ ہر طبقہ فکر پریشانی میں لاحق ہے۔ ایک دوسرے پر بہتان ،الزام تراشی ،بغض ،کینہ پروری کے ایسے ایسے رویے اختیار کیے ہوئے ہیں کہ آگ و خون کی ندیاں بہتی جا رہی ہیں دین اسلام کے دشمن خوش اور ہم تباہ و برباد ہو رہے ہیں۔بد قسمتی سے محر م الحرام کی آمد پر ہر طرف سے خوف کی فضا، دہشت گردی ،قتل و غارت ،فساد ،امن و امان کی ناگفتہ بہ صورتحال پر چہ میگو ئیاں شروع ہو جاتی ہیں۔حکومتی سطح پر مختلف محکموں، پولیس،رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ماہ محرم الحرام کے سلسلے میں اجلاس شروع ہو جاتے ہیں۔یہ اجلاس اور اس میں ہونے والی موثر منصوبہ بندی بلا شبہ عوام کے جان و مال عزت کے تحفظ ،امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔ لیکن صرف ریاستی ادارے ہی نہیں تمام سیاسی ،مذہبی ،سماجی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کا بھی قومی فریضہ ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حکومتی کوششوں کا ساتھ دے۔ماہ محرم الحرام تمام عالم اسلام کیلئے ایک مقدس مہینہ ہے اس دوران ہمیں اپنے اندر صبر و ضبط برقرار رکھتے ہوئے مذہبی رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ محرم کے دوران فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فسادات کی سازشوں کو ناکام بناد یں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: محرم الحرام رہے ہیں

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف