مخصوص نشستیں تحریک انصاف کا حق ہے، پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
درخواست پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری علی اصغر کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ مخصوص نشستیں تحریک انصاف کا آئینی اور قانونی حق ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ میں باضابطہ درخواست دائر کر دی۔ درخواست پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری علی اصغر کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ مخصوص نشستیں تحریک انصاف کا آئینی اور قانونی حق ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس اہم معاملے میں پی ٹی آئی کو سُنا ہی نہیں گیا اور عدالت کو مخصوص نشستوں کے حوالے سے غلط معلومات فراہم کی گئیں، جس سے عدالتی فیصلہ متاثر ہوا۔ پشاور ہائیکورٹ کا 13 اور 14 مارچ 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے اور عدالت درخواست گزار کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کرے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔
درخواست میں الیکشن کمیشن آف پاکستان سمیت دیگر کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ قانونی قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب پارٹی کا مؤقف ہے کہ مخصوص نشستوں پر ان کے آئینی حق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو کہ نمائندگی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت میں اس درخواست پر سماعت کی تاریخ کا اعلان جلد متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تحریک انصاف پی ٹی ا ئی گیا ہے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔