کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں معصوم جانوں کے قاتل کسی رعایت کے مستحق نہیں۔کوئٹہ میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی زیرِ صدارت امن و امان سے متعلق اجلاس ہوا، جس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں آئی جی پولیس معظم جاہ انصاری نے اجلاس کو سرہ ڈاکئی واقعے پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس سے خطاب میں وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو ہر حال میں کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

پاک بحریہ میں عسکری اعزازات تفویض کرنے کی تقریب، چیف آف نیول سٹاف کی بطور مہمان خصوصی شرکت

ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا آخری حد تک تعاقب کیا جائے گا، لیویز اور پولیس کی حدود سے بالاتر ہو کر کارروائی کی جائے گی، دہشت گردوں کے خلاف بلا تاخیر اور فیصلہ کن ایکشن لیا جائے گا۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے حکام کو دہشت گردی کے واقعات میں رسپانس میکنزم کو مؤثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ امن دشمن عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، بلوچستان میں قانون کی عمل داری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: جائے گا

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار