بلوچستان میں بھارتی پراکسیز دہشت گردی میں ملوث ہیں، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
اسلام آ باد:
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت اور اس کی پراکسیز دہشت گردی میں ملوث ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں دہائیوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے ایشو پر بالکل کلیئر ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اس اس طرح کا کوئی بیان نہیں آیا، ترجمان پیپلز پارٹی اس حوالے سے بہتر بیان کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا قریبی دوست ملک ہے، تائیوان کے معاملے پر ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں۔ بلوچستان میں انڈین مداخلت ہوتی ہے اور انڈین پراکیسیز ان واقعات میں ملوث ہیں۔ پاکستان یہ معاملہ دنیا میں ہر فورم پر اٹھا رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان برکس ممالک کی تنظیم میں شمولیت کا خواہاں ہے۔ برکس کے بارے میں اب جو چیزیں سامنے آرہی ہیں، ہم اس پر کمنٹ نہیں کر سکتے کیوں کہ ابھی ہم اس کے رکن نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ
پڑھیں:
اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے اور دنیا میں جاری بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے پاکستان کے مسلسل مصالحتی کردار اور امریکہ و ایران کے درمیان روابط و مذاکرات میں سہولت کاری کی کوششوں کو سراہااور علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی تعریف کی۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سفارتکاری اور مسلسل مذاکرات کو خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کا بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔ دونوں جانب نے پاکستان اور کویت کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات کی بھی توثیق کی اور آئندہ بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بیلجیم میں پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی نے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ نائب صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے مثبت نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے سفیر کو ہدایت کی کہ وہ اس دورے کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر عملدرآمد کی پیروی جاری رکھیں اور یورپی یونین کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کیلئے کوششیں تیز کریں۔