پنجاب بڑی تباہی سے بچ گیا، 18 دہشت گرد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
دہشت گردوں سے دھماکہ خیزمواد،خود کش جیکٹ بنانے کا سامان برآمدہوا
خطرناک دہشتگرد شہرمیں دہشتگردی کی پلاننگ مکمل کرچکا تھا،سی ٹی ڈی حکام
محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے پنجاب میں ایک ماہ کے دوران 386 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 18 دہشت گرد گرفتار کرلئے ۔دہشتگردی کے خدشات کے پیش نظرسی ٹی ڈی کے پنجاب کے مختلف شہروں میں ایک ماہ میں 386 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے،جس میں انتہائی خطرناک دہشت گرد تنظیم کے اہم رکن سمیت اٹھارہ دہشتگردوں کو گرفتارکرلیاگیا ۔سی ٹی ڈی حکام کے مطابق کارروائی لاہور،منڈی بہائوالدین،خوشاب،بہاولپور،ٹوبہ ٹیک سنگھ،گوجرانوالہ، نارووال،پاک پتن،بھکرمیں کی گئیں،انتہائی خطرناک دہشت گرد تنظیم کا اہم رکن گرفتار کرلیا گیا۔حکام کے مطابق دہشتگرد پنجاب کے ایک شہرمیں دہشت گردی کی پلاننگ مکمل کرچکا تھا،دہشت گردوں سے دھماکہ خیزمواد،خود کش جیکٹ بنانے کا سامان برآمد ہوا،رواں ماہ میں4601 کو مبنگ آپریشنز کے دوران 320 مشتبہ افراد گرفتارکیے۔حکام کے مطابق دہشت گردوں کی شناخت محمدکریم علی رضامحمد عزیزمحمد علی،ہاشم ،نور الامین سلیم ،صدام وغیرہ کے نام سے ہوئی۔دہشت گردمختلف مقامات پر کارروائی کر کے عوام میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے تھے،کومبنگ آپریشنز میں 109892 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔