بلوچستان میں معصوم جانوں کے قاتل کسی رعایت کے مستحق نہیں، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
سٹی42: بلوچستان کے وزیراعلیٰ نےدہشت گردی کے واقعات میں رسپانس میکنزم کو موثر بنانے کی ہدایت کی ہے اور حکم دیا ہے کہ لیویز اور پولیس کی حدود سے بالاتر ہوکر کارروائی کی جائے۔دہشت گردوں کے خلاف بلا تاخیر اور فیصلہ کن ایکشن لیا جائے گا۔
بلوچستان کے علاقہ ژوب میں سڑک پر نہتے مظلوم مسافروں کو چن چن کر قتل کئے جانے کے ایک اور واقعہ کے بعد بلوچستان کی انتظامیہ کا ایک اور "اعلیٰ سطحی اجلاس" ہوا جس میں وزیراعلیٰ نے ایک بار پھر دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
حفیظ سنٹر لاہور میں فائر ریسکیو آپریشن ؛ سیکرٹری ایمرجنسی سروسز کا فائر فائٹرز کو خراج تحسین
اس اجلاس میں اور گزشتہ اجلاسوں میں یہ فرق بہرحال ہے کہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے دہشتگردی کے واقعات کو لیویز اور پولیس پر چھوڑنے کی بجائے زیادہ مؤثر اور برق رفتار جواب دینے کی ہدایات دیں۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سرہ ڈکئی واقعہ پر آئی جی پولیس بلوچستان نے واقعہ کی رسمی رپورٹ پیش کی۔
وزیر اعلیٰ نے دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کا حکم دیا اور کہا، معصوم جانوں کے قاتل کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ دہشت گردوں کو ہر حال میں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
شکر گڑھ میں درمیانے درجے کا سیلاب، زمینی رابطہ منقطع
دہشت گردوں کا تعاقب آخری حد تک کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا، امن دشمن عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، بلوچستان میں قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اجلاس میں سرہ ڈکئی کے شہداء کے لیے دعا بھی کی گئی۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سرفراز بگٹی وزیر اعلی جائے گا
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔