بلوچستان کا مسئلہ بندوق کے بجائے سیاسی طور پر حل کرنا ہوگا: عبدالمالک بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت کے بجائے سیاسی مذاکرات اور مفاہمت سے نکالا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس وقت بلوچستان میں ریاستی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے، اور جب ملک کے اندرونی حالات خراب ہوں تو بیرونی قوتیں مداخلت کا موقع حاصل کر لیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر داخلی حالات بہتر ہوں گے تو کسی بیرونی مداخلت کا خدشہ باقی نہیں رہے گا۔
عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کیے بغیر بلوچستان میں پائیدار امن ممکن نہیں، اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کا اعتماد بحال کرے۔ حالات کی بہتری کے لیے پالیسیوں پر نظرِ ثانی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان گزشتہ دو دہائیوں سے بحرانی کیفیت کا شکار ہے اور اس کے مسائل کا پائیدار حل صرف سیاسی طریقے سے ہی ممکن ہے۔
سابق وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی ناگزیر ہے، کیونکہ جب عوام بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہوں تو صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
فیروزوالہ (نامہ نگار) شرقپور خورد کوٹ عبدالمالک میں ایک شخص وقاص احمد نے بیوٹی پارلر پر جا کر سابقہ بیوی مسرت بی بی اور جواں سال بیٹی ایمان فاطمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد تیزاب پھینک دیا جس سے مسرت بی بی جسم پر تیزاب پڑنے سے بری طرح جھلس گئی جبکہ ایمان فاطمہ معمولی زخمی ہوئی۔ دریں اثناء ایس ایچ او کوٹ عبدالمالک نے بتایا ہے کہ ملزم وقاص احمد نشہ کا عادی ہے۔ وقوعہ کے وقت وقاص احمد اپنی بیٹی ایمان فاطمہ کو ملنے کی خاطر سابقہ بیوی مسرت بی بی کے بیوٹی پارلر پر آیا جہاں مسرت بی بی نے بیٹی کو ملانے سے انکار کر دیا۔ ملزم شیخوپورہ کے قریب قصبہ بھکھی میں رہ رہا ہے جس کو گرفتار کرنے کی خاطر اس کے تمام ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔