ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی جانب سے میٹرک سائنس گروپ کا متوقع نتیجہ کم و بیش مزید 15 روز کی تاخیر کا شکار ہوگیا ہے اس نتیجے کے 1 لاکھ 80 ہزار طلبہ منتظر ہیں اور 1 لاکھ طلبہ پورٹل کے ذریعے سرکاری کالجوں میں داخلوں کی درخواستیں بھی دے چکے ہیں۔

یاد رہے کہ محکمہ تعلیم سندھ کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق کراچی سمیت پورے سندھ میں یہ نتائج 31 جولائی کو جاری ہونے تھے جبکہ میٹرک بورڈ کی انتظامیہ نے بھی یہ نتائج بروقت جاری کرنے کا دعوی کیا تھا تاہم میٹرک بورڈ کے ذرائع کے مطابق اب ایسا ممکن نہیں رہا اور بہت کوششوں کے ساتھ میٹرک سائنس گروپ کا نتیجہ اگست کے دوسرے ہفتے میں کسی وقت جاری ہوسکتا ہے۔

ذرائع نے " ایکسپریس" کو بتایا کہ "میٹرک سائنس میں سندھی زبان کے مضمون کی کاپیاں اب تک جانچ کے عمل سے باہر نہیں آسکیں ہیں کیونکہ مذکورہ مضمون کی کاپیوں کے ذمے دار اساتذہ کی ایک بڑی تعداد تعطیلات گزارنے کراچی سے باہر اپنے آبائی علاقوں میں ہے اور جو اساتذہ سندھی کے مضمون کی کاپیاں جانچ رہے ہیں ان کی تعداد اس قدر نہیں کہ نتیجہ بروقت آسکے لہذا جو اساتذہ تعطیلات پر ہیں انھیں فون کرکے بلایا جارہا ہے "۔

یاد رہے کہ کراچی میں میٹرک سائنس کا آخری پرچہ 2 جون کو ہوا تھا اب خیال کیا جارہا یے کہ چونکہ مرکزی داخلہ پالیسی کے تحت انٹر سال اول کی پلیسمنٹ/میرٹ لسٹ جاری ہوچکی ہے اور اب تک 50 ہزار کے قریب طلبہ انٹر سال اول میں داخلے بھی لے چکے ہیں لہذا امکان یے کہ کراچی کے سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول کی کلاسز پہلے شروع ہوجائیں اور انھیں طلبہ کا میٹرک کا نتیجہ کالج کا سیشن شروع ہونے کے بعد جاری ہو اور اگر نتیجے کا انتظار کیا جائے تو ایسی صورت میں انٹر سال اول کا سیشن بھی بروقت شروع نہیں ہوپائے گا۔

واضح رہے کہ ناکام طلبا کو ملا کر تقریبا 1 لاکھ 80 ہزار طلبہ کا میٹرک سائنس کا نتیجہ جاری ہونا ہے جو تاحال تیاری کے مراحل میں ہے اور تاخیر کا شکار ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ نتائج میں تاخیر کی صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب میٹرک بورڈ کراچی میں کوئی مستقل ناظم امتحانات موجود نہیں ہے جو نتائج کی بروقت تیاری کی ذمے داری لیتا اور ناظم امتحانات میٹرک بورڈ کراچی میں کام کررہے تھے انھیں چیئرمین بورڈ نے اختیارات نا ہونے کے باوجود عہدے سے خود ہی سبکدوش کردیا۔

بورڈ میں اس وقت موجود تینوں ڈپٹی کنٹرولر معطل ہیں لہذا ناظم امتحانات کا چارج چیئرمین بورڈ نے خود ہی ایک اسسٹنٹ کنٹرولر کو دے رکھا ہے واضح رہے کہ بورڈ کے ایکٹ کے تحت ناظم امتحانات کی تقرری و سبکدوشی کا اختیار کنٹرولنگ اتھارٹی وزیر اعلی سندھ کے پاس ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ناظم امتحانات انٹر سال اول میٹرک سائنس میٹرک بورڈ بورڈ کراچی رہے کہ

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی