شوگر ملز مالکان کو برآمد کیلئے سبسڈی کیوں دی گئی؟ چیئرمین پی اے سی کا سوال
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
— فائل فوٹو
چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) جنید اکبر خان نے شوگر ملز مالکان کو ملنے والی سبسڈی پر سوال اُٹھا دیا۔
جنید اکبر خان نے اجلاس کے دوران سیکریٹری صنعت و پیداوار سے سوال کیا کہ شوگر ملز مالکان کو برآمد کے لیے سبسڈی کیوں دی گئی؟ ہم نے آپ سے شوگر ملز مالکان کی تفصیلات طلب کی تھیں؟ کہاں ہیں تفصیلات؟
سیکریٹری صنعت و پیداوار نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس شوگر ملز کی فہرست ہے۔
چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ صرف شوگر ملز کی فہرست نہیں بلکہ ان کے مالکان اور ڈائریکٹرز کی تفصیلات بھی دیں۔
سیکریٹری صنعت و پیداوار نے اجلاس کے دوران بتایا کہ گزشتہ سال ملک میں چینی کی پیداوار 76 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن تھی، اس میں سے 13 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ چینی سرپلس رہی۔
بریفنگ میں نے مزید بتایا کہ 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی اگلے سال کے لیے ریزرو رکھی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ اور ای سی سی نے 3 مراحل میں7 لاکھ 90 ہزار ٹن چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی، چینی برآمد کر کے 40 کروڑ ڈالرز سے زیادہ زرمبادلہ کمایا گیا۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا ہے کہ جب چینی ایکسپورٹ کی گئی تو مقامی مارکیٹ میں قیمت 143روپے کلو تھی اور اس وقت مقامی مارکیٹ میں قیمت 173 روپے فی کلو ہے، مارکیٹ میں قیمت بڑھنے پر وزیراعظم نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شوگر ملز مالکان
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔