ایس آئی ایف سی کے 2 برس؛ ترسیلات زر، سرمایہ کاری اور برآمدات میں نمایاں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
ایس آئی ایف سی کے 2 سال کے دوران ملکی ترسیلات زر، سرمایہ کاری اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلٹی کونسل (ایس آئی ایف سی) کے دوسرے سال میں پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، جسے ملکی و غیر ملکی ماہرین، اداروں اور ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی سراہا ہے۔
معیشت، سرمایہ کاری، برآمدات اور اصلاحات کے میدان میں ایس آئی ایف سی نے ایسے ٹھوس اقدامات کیے ہیں جن کے اثرات ملکی اقتصادی منظرنامے پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران ترسیلات زر میں غیر معمولی 28.
اسی طرح برآمدات کے شعبے میں بھی مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی، جہاں صرف یورپی منڈیوں میں پاکستانی برآمدات میں 8.62 فیصد اضافہ ہوا اور 10 ماہ کے دوران یہ بڑھ کر 7.55 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مانگ میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ایس آئی ایف سی کی مربوط اور مؤثر پالیسیوں کی بدولت عالمی اداروں اور ریٹنگ ایجنسیوں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوا ہے۔
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معیشت کو درست سمت میں قرار دیا جب کہ موڈیز نے ملکی آؤٹ لک کو مثبت کر دیا۔ اسی طرح، امریکی ایجنسی فچ ریٹنگز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو ‘+CCC’ سے بڑھا کر ‘+B’ کر دیا، جو معاشی بہتری کا بڑا اشاریہ ہے۔
سرمایہ کاری کے میدان میں بھی مثبت رجحانات سامنے آئے، جن میں ربڑ کی مصنوعات میں 163 فیصد اور سماجی خدمات کے شعبے میں 416 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ تعمیرات اور سیمنٹ کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری مستحکم رہی جب کہ انفراسٹرکچر منصوبوں میں بھی تیزی آئی۔
مزید برآں پاکستان نے چین میں اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے، جس سے حاصل شدہ فنڈز جدید زراعت، فارمنگ اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔
ماحول دوست منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے پہلے ’’گرین سکوک‘‘ کا اجرا بھی کیا گیا، جس کے تحت 30 ارب روپے کی رقم 3 نئے ڈیمز سمیت مختلف توانائی منصوبوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.4 ارب ڈالر کے پائیدار ترقیاتی فنڈ کی منظوری بھی دی ہے، جسے موسمیاتی استحکام، صاف توانائی اور مجموعی اقتصادی استحکام کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایس آئی ایف سی کی ان کامیابیوں کو بھارتی سازشوں کی ناکامی اور قومی ترقی کی فتح قرار دیا اور کہا کہ یہ سب کچھ مربوط حکمت عملی اور قومی یکجہتی کے باعث ممکن ہو سکا ہے۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری ترسیلات زر ارب ڈالر میں بھی کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔