عمران خان مذاکرات چاہتے ہیں تو قانون کے سامنے سر جھکائیں، غلطیوں کا اعتراف اور توبہ کریں، امیر مقام WhatsAppFacebookTwitter 0 13 July, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران امیر مقام نے کہا ہے کہ اگر عمران خان واقعی مذاکرات چاہتے ہیں تو پہلے قانون کے سامنے سر جھکائیں، غلطیوں کا اعتراف کریں اور نفرت کی سیاست سے توبہ کریں۔
انجینئر امیر مقام نے کہا کہ عوام سازشی عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں اور پاکستان کو ترقی و استحکام کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے متحد رہیں۔خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلی علی امین گنڈاپور کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قوم نے ان کے دھرنوں، لانگ مارچوں اور تشدد کے ایجنڈے کو مسترد کر دیا ہے، اب یہ صرف اقتدار کی ہوس میں ہاتھ پاوں مار رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان اور ان کے ساتھی ایک بار پھر قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انجینئر امیر مقام نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ ماضی میں ریاستی اداروں کو للکارتے رہے، عدلیہ، افواج اور حکومت کے خلاف مسلسل زہر اگلتے رہے اب وہ کس منہ سے مذاکرات کی بات کر رہے ہیں؟انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کی دھمکیاں کہ “90 دن میں یا تو خان کو رہا کرائیں گے یا سیاست چھوڑ دیں گے محض ایک اور ڈرامہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی میز سے ہمیشہ بھاگ جانے والے پھر مذاکرات کی بات کر رہے ہیں۔علی امین گنڈا پور خود بے اختیار ہے، 90 روز کی تحریک کا شوشہ صوبائی حکومت بچانے کی چال ہے جسے خود پی ٹی آئی کے اندر سے خطرہ ہے۔مذاکرات کی بات کرکے 90 روز کی تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی فلاپ ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 90 روز کا اعلان اعتراف شکست اور “فائنل کال سے بھی برے انجام کا آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت آئین، قانون اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان واقعی مذاکرات چاہتے ہیں تو پہلے قانون کے سامنے سر جھکائیں، غلطیوں کا اعتراف کریں اور نفرت کی سیاست سے توبہ کریں۔امیر مقام نے کہا کہ صوبے کے عوام خیبرپختونخوا میں 11 سالہ حکومت کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ علی امین پہلے صوبے کے عوام کو جواب دیں۔ لاہور میں آپ نے ترقی دیکھی اور اپنے صوبے میں کیا؟ کچھ نہیں ،صوبے کے عوام مزید برداشت نہیں کر سکتے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسٹیبلشمنٹ کسی سیاسی عمل میں نہیں آنا چاہتی،پی ٹی آئی کو مذاکرات کرنے ہیں تو سپیکر کی میز پر لوٹنا ہو گا، طلال چودھری اسٹیبلشمنٹ کسی سیاسی عمل میں نہیں آنا چاہتی،پی ٹی آئی کو مذاکرات کرنے ہیں تو سپیکر کی میز پر لوٹنا ہو گا، طلال چودھری نواز شریف حکومت سازش سے ختم کی گئی، پی ٹی آئی مکافاتِ عمل کا شکار ہے، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق پی ٹی آئی نے 5اراکین قومی اسمبلی کو پارٹی سے نکال دیا، نوٹیفکیشن جاری وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا ازبکستان کے ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، ریلوے پروجیکٹ پر تبادلہ خیال پی ٹی آئی تحریک کے اعلان پر چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ ملک نے سوالات اٹھادیئے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں امداد کے منتظر 38افراد سمیت مزید 98فلسطینی شہید TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: قانون کے سامنے سر جھکائیں مذاکرات چاہتے ہیں تو غلطیوں کا اعتراف انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی کر رہے ہیں توبہ کریں پی ٹی آئی علی امین

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن