یوکرین کا اپنے خفیہ ایجنسی کے افسر کو قتل کرنے والے روسی ایجنٹس کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
یوکرین کی سیکیورٹی سروس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 2 روسی خفیہ ایجنٹس کو ہلاک کر دیا ہے جو جمعرات کو ہونے والے یوکرینی سیکیورٹی افسر ایوان وورونچ کے قتل میں ملوث تھے۔
یوکرینی حکام کے مطابق ہلاک کیے جانے والے مشتبہ مرد اور عورت واردات کے بعد روپوش ہو گئے تھے لیکن یوکرینی سیکیورٹی اور نیشنل پولیس نے ان کا سراغ لگا لیا۔
یہ بھی پڑھیے: شمالی کوریا کی یوکرین جنگ میں روس کو بھرپور حمایت اعلان لاوروف کی کم جونگ اُن سے ملاقات
یوکرینی خفیہ ایجنسی ایس بی یو کے سربراہ واسلی ملیوک کا کہنا ہے کہ خفیہ تفتیشی اور جوابی انٹیلی جنس کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کا ٹھکانہ دریافت کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گرفتاری کے دوران دونوں روسی ایجنٹس نے مزاحمت کی جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور مجرم ہلاک ہو گئے۔
واسلی ملیوک نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ میں دشمن کو یاد دلا دینا چاہتا ہوں کہ یوکرین کی سرزمین پر اس کا واحد انجام موت ہے۔ یہ ویڈیو بظاہر مشتبہ روسی ایجنٹس کی لاشوں کے سامنے ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: یوکرینی میزائل حملے میں روس کی ایلیٹ میرین یونٹ کا کمانڈر ہلاک
ایس بی یو نہ صرف یوکرین کے اندرونی سکیورٹی معاملات سنبھالتی ہے بلکہ روس کے خلاف خفیہ کارروائیوں کی بھی ذمہ دار ہے۔ گزشتہ ماہ روسی ایئرفیلڈز پر ڈرون حملہ بھی اسی ادارے نے انجام دیا تھا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب روس نے یوکرین پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں یوکرین پر اب تک کے سب سے بڑے ڈرون حملے کیے گئے جو اس جاری جنگ کے چوتھے سال میں داخل ہونے کا عندیہ دیتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایجنٹس خفیہ ایجنسی روس یوکرین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایجنٹس خفیہ ایجنسی یوکرین
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔