ماہرین کے مطابق طرزِ زندگی میں معمولی تبدیلی جگر کے کینسر کے کیسز میں واضح کمی لا سکتی ہے۔

جگر کے کینسر پر بنائے گئے لانسٹ کمیشن کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ الکوحل کی کھپت اور مٹاپے میں کمی اور ہیپاٹائٹس ویکسین لگوانے کے رجحان میں اضافے سے پانچ میں سے تین کیسز کو مرض سے بچایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے اندازے کے مطابق 2050 تک جگر کے کینسر کے نئے کیسز 2022 میں ریکارڈ ہونے والے 8 لاکھ 70 ہزار کی تعداد سے بڑھ کر 15 لاکھ 20 تک پہنچ سکتے ہیں۔

گروپ کے مطابق مٹاپے سے تعلق رکھنے والے جگر کے کینسر کے کیسز کا تناسب 5 فی صد سے بڑھ کر 11 فی صد تک متوقع ہے جبکہ 2050 تک 21 فی صد کیسز الکوحل کے سبب ہوں گے۔

11 فی صد کیسز میٹابولک ڈسفنکشن-ایسوسی ایٹڈ اسٹیئٹوٹک لیور ڈیزیز (ایم اے ایس ایل ڈی)، جس کو ماضی میں فیٹی لیور ڈیزیز کے نام سے جانا جاتا تھا کے سبب پیش آئیں گے۔

محققین کی ٹیم کا کہنا تھا کہ جگر کے سرطان کے 60 فی صد کیسز کا بچایا جانا ممکن ہے۔ عالمی سطح پر 2050 تک جگر کے کینسر سے ہونے والی اموات کی تعداد 13 لاکھ 70 ہزار تک متوقع ہے جو کہ 2022 میں 7 لاکھ 60 ہزار ریکارڈ کی گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جگر کے کینسر

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا