طرزِ زندگی میں معمولی تبدیلی خطرناک بیماری سے بچا سکتی ہے: ماہرین
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
ماہرین کے مطابق طرزِ زندگی میں معمولی تبدیلی جگر کے کینسر کے کیسز میں واضح کمی لا سکتی ہے۔
جگر کے کینسر پر بنائے گئے لانسٹ کمیشن کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ الکوحل کی کھپت اور مٹاپے میں کمی اور ہیپاٹائٹس ویکسین لگوانے کے رجحان میں اضافے سے پانچ میں سے تین کیسز کو مرض سے بچایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے اندازے کے مطابق 2050 تک جگر کے کینسر کے نئے کیسز 2022 میں ریکارڈ ہونے والے 8 لاکھ 70 ہزار کی تعداد سے بڑھ کر 15 لاکھ 20 تک پہنچ سکتے ہیں۔
گروپ کے مطابق مٹاپے سے تعلق رکھنے والے جگر کے کینسر کے کیسز کا تناسب 5 فی صد سے بڑھ کر 11 فی صد تک متوقع ہے جبکہ 2050 تک 21 فی صد کیسز الکوحل کے سبب ہوں گے۔
11 فی صد کیسز میٹابولک ڈسفنکشن-ایسوسی ایٹڈ اسٹیئٹوٹک لیور ڈیزیز (ایم اے ایس ایل ڈی)، جس کو ماضی میں فیٹی لیور ڈیزیز کے نام سے جانا جاتا تھا کے سبب پیش آئیں گے۔
محققین کی ٹیم کا کہنا تھا کہ جگر کے سرطان کے 60 فی صد کیسز کا بچایا جانا ممکن ہے۔ عالمی سطح پر 2050 تک جگر کے کینسر سے ہونے والی اموات کی تعداد 13 لاکھ 70 ہزار تک متوقع ہے جو کہ 2022 میں 7 لاکھ 60 ہزار ریکارڈ کی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جگر کے کینسر
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔