Daily Mumtaz:
2026-06-03@02:27:09 GMT

حکومت کا الیکٹرک بائیکس 2 سال کی اقساط پر دینے کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT

حکومت کا الیکٹرک بائیکس 2 سال کی اقساط پر دینے کا فیصلہ

اسلام آباد:پیٹرول اور ڈیزل کے بجائے الیکٹرک گاڑیوں اور بائیکس کو فروغ دینے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس 2 سالوں کی اقساط پر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکٹرک بائیکس کے لیے اقساط اور سبسڈی اسکیم تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہوگئی، وزیر اعظم شہباز شریف یوم آزادی پر نئی ای وی پالیسی اسکیم کا اعلان بھی کریں گے۔
اسٹیٹ بینک اور بینک ایسوسی ایشن کی جانب سے اسکیم تیار کی جا رہی ہے، جس کے تحت فی الیکٹرک بائیکس اور رکشہ پر 50 ہزار کی سبسڈی دی جائے گی۔ اسکیم کے تحت اہلیت کے لیے عمر کی حد 18 سے 65 سال تک ہوگی۔
فی الیکٹرک بائیک کی قیمت 2 لاکھ 50 ہزار روپے تک مقرر ہونے کا تخمینہ ہے جبکہ 50 ہزار کی سبسڈی اور بقیہ 2 لاکھ سے زائد رقم اقساط میں ادا کرنا ہوں گی۔
ذرائع کے مطابق 17 کمپنیاں الیکٹرک بائیکس بنانے کے لیے لائسنس حصول میں کامیاب ہوئیں، پالیسی کے تحت 2030 تک 30 فیصد الیکٹرک وہیکلز کا ہدف مقرر ہے۔
ای وی پالیسی کی کامیابی کے لیے 5 سال میں 100 ارب کی سبسڈی دی جائے گی۔
رواں مالی سال کے لیے 9 ارب، 2027 کے لیے 19 ارب، سال 2028 میں 24 ارب سے زائد اور سال 2029 میں 26 ارب سے زائد سبسڈی مختص ہوگی۔ سال 2030 میں سبسڈی کی مد میں تقریباً 23 ارب مختص ہوں گے۔
سال 2030 تک 22 لاکھ 13 ہزار الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، پالیسی کے تحت سال 2040 تک 90 فیصد الیکٹرک گاڑیوں کے ہدف کا تخمینہ ہے۔ زیرو ایمشن وہیکل فلیٹ 100 فیصد تک مکمل حاصل کرنے کی مدت 2060 ہوگی۔
الیکٹرک وہیکل پالیسی کے فروغ سے درآمدی فیول کی لاگت میں کمی آئے گی جبکہ ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں سے ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: الیکٹرک بائیکس الیکٹرک گاڑیوں کے تحت کے لیے

پڑھیں:

5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا

پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ 

حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ