UrduPoint:
2026-07-24@06:15:14 GMT

بھارت: طلبہ کی خودکشیوں میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT

بھارت: طلبہ کی خودکشیوں میں اضافے کی وجوہات کیا ہیں؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 28 جولائی 2025ء) بھارت میں جرائم کا اعداد وشمار رکھنے والے حکومتی ادارے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کے مطابق بھارت میں ہر سال تقریباً 13,000 طلبہ خودکشی کر لیتے ہیں۔ این سی آر بی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق طلبہ ملک میں خودکشی کرنے والوں کا 7.6 فیصد حصہ ہیں۔

یہ اعداد و شمار 2022 کے ڈیٹا پر مبنی ہیں، جبکہ 2023 اور 2024 کے سرکاری اعداد و شمار ابھی جاری نہیں ہوئے ہیں۔

تحقیقات اور سرکاری رپورٹوں کے مطابق تعلیمی اور سماجی دباؤ، ادارہ جاتی معاونت کی کمی اور آگاہی کی کمی جیسے عوامل طلبہ میں خودکشی کے رجحان میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

نیورو سائیکاٹرسٹ انجلی ناگپال نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میں ان اعداد و شمار کو صرف اعداد نہیں بلکہ ان خاموش اذیتوں کی علامت سمجھتی ہوں جو سماجی اصولوں اور توقعات کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ بچوں کو ناکامی، مایوسی یا غیر یقینی صورتِ حال سے نمٹنے کا طریقہ نہیں سکھایا جاتا ۔ ہم انہیں امتحانات کے لیے تیار کرتے ہیں، زندگی کے لیے نہیں۔‘‘

انجلی ناگپال کا کہنا ہے’’ذہنی صحت کی تعلیم کو اسکول کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہونا چاہیے، نہ کہ اسے صرف الگ تھلگ سیشنز تک محدود رکھا جائے۔

طلبہ کو اظہارِ خیال کا موقع اور توجہ سے سنے جانے کی جگہ ملنی چاہیے۔ اساتذہ کو صرف لیکچر دینے کے بجائے سننے کی تربیت دی جانی چاہیے۔‘‘ ذہنی صحت کی معاونت کے مطالبات میں اضافہ

پیر کے روز بھارتی وزیر مملکت برائے تعلیم سکانت مجمدار نے پارلیمنٹ میں رپورٹ کے نتائج پیش کیے۔

حکومت نے تسلیم کیا کہ تعلیمی اصلاحات اور ذہنی صحت کے نئے اقدامات کے باوجود، ’’شدید تعلیمی دباؤ‘‘ کمزور طلبہ کو متاثر کرتا رہتا ہے۔

مجمدار نے بتایا کہ حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے کثیر الجہتی اقدامات کر رہی ہے، جن میں طلبہ، اساتذہ اور خاندانوں کے لیے نفسیاتی معاونت کے پروگرام شامل ہیں۔

سوسائیڈ پریوینشن انڈیا فاؤنڈیشن کے بانی نیلسن ونود موسیٰ نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا’’زہریلی مسابقت‘‘، سخت گریڈنگ سسٹم اور ذہنی صحت کے ناقص ڈھانچے اس بحران کے بڑے عوامل ہیں۔

انہوں نے کہا،’’ایک خاموش وبا بہت سے نوجوانوں کو ٹوٹنے کے دہانے پر لے جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت کے تعلیمی نظام میں اضطراب اور بے اعتمادی کی ایک لہر دوڑ رہی ہے۔‘‘

ان کے مطابق کالجوں کے کونسلرز کو خودکشی کی اسکریننگ، خطرے کی تشخیص، اور متاثرہ طلبہ کی کونسلنگ کی تربیت دی جانی چاہیے۔

نیلسن ونود موسیٰ نے بتایا، ’’ہم یہ نہیں چاہتے کہ نوجوان زندگیاں یوں ضائع ہوں۔

اس لیے کیمپسز میں جذباتی ذہانت، زندگی کی مہارتیں، دباؤ سے نمٹنے اور خودکشی سے بچاؤ کے پروگرام متعارف کرانا ضروری ہے۔ طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے ’گیٹ کیپر' تربیت اہم ہے۔‘‘

گیٹ کیپر تربیت سے مراد خودکشی کو روکنے کے لیے ایک دو روزہ مخصوص ورک شاپ سے ہے۔

کمزور طلبہ کے لیے ’تحفظاتی نظام‘ کی ضرورت

سن 2019 میں یونیورسٹی آف میلبورن (آسٹریلیا)، بھارت کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز(نمہانس)، اور دیگر بھارتی میڈیکل کالجز کے محققین کی مشترکہ تحقیق میں کالج طلبہ میں خودکشی کے رحجانات کا مطالعہ کیا گیا۔

اس سروے میں بھارت کی 9 ریاستوں کی 30 یونیورسٹیوں کے 8,500 سے زائد طلبہ شامل تھے۔

تحقیق میں انکشاف ہوا کہ 12 فیصد سے زائد طلبہ نے گزشتہ سال کے دوران خودکشی کے خیالات کا اظہار کیا، جبکہ 6.

7 فیصد نے اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی خودکشی کی کوشش کی۔

تحقیق میں اس بڑھتے بحران کے سدباب کے لیے تعلیمی اداروں میں فوری ذہنی صحت کے اقدامات اور معاون نظام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

بھارتی سپریم کورٹ نے اس صورت حال کو’’خودکشی کی وبا‘‘ قرار دیتے ہوئے مارچ میں 10 رکنی قومی ٹاسک فورس تشکیل دی، جو اس وقت ملک گیر مشاورت، ادارہ جاتی جائزے اور جامع پالیسی کی تیاری میں مصروف ہے۔

کریئرز360 کے بانی اور سی ای او مہیشور پیری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’بدقسمتی سے بعض اوقات طلبہ کو صرف ایک دن کے امتحان کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے، اور وہ اس دباؤ کی وجہ سے اپنی جان لے لیتے ہیں۔

ہمیں ان کے لیے تحفظاتی نظام بنانا ہو گا۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’زیادہ تر طلبہ تنہا پڑھتے ہیں اور ان کے پاس کوئی معاون نظام نہیں ہوتا۔ طلبہ کی ضروریات کے مطابق ذہنی صحت کی مربوط سہولیات کی فوری ضرورت ہے۔‘‘

کامیابی کی محدود تعریف، مواقع کی کمی

دہلی کے ماہر نفسیات آچل بھگت، جنہیں اس شعبے میں 30 سال سے زائد کا تجربہ ہے، نے کہا کہ کامیابی کی محدود تعریف، صنفی تفریق، تشدد اور روزگار کے مواقع کی کمی طلبہ کی ذہنی صحت کے مسائل میں کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’یا تو آپ ناکام ہیں یا جینیئس۔ ہمارے معاشرتی اور ادارہ جاتی نظام سخت گیر ہیں، اور نوجوانوں سے مکالمہ نہیں کرتے۔ یہی احساسِ بے بسی اور مایوسی المیہ بن جاتا ہے۔‘‘

ان کے مطابق اس تشویش ناک مسئلے کے حل کے سب سے اہم عناصر میں نوجوانوں کی مستقبل سے متعلق فیصلوں میں ان کی شراکت، رہنمائی، اور کامیابی کی وسیع تر تعریف کے لیے قابلِ رسائی رول ماڈلز کی تیاری شامل ہے۔

ادارت: صلاح الدین زین

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ذہنی صحت کے انہوں نے کے مطابق طلبہ کی کی کمی نے کہا کے لیے

پڑھیں:

سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا

کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔

دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔

عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا