مودی حکومت میں عدلیہ، پارلیمنٹ اور ایوان بالا کی کرسی تک محفوظ نہیں ہے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ پارلیمانی امور سے واقف کسی بھی شخص کو اس میں کوئی شک نہیں کہ جگدیپ دھنکھڑ کا ارادہ اس روز تحریک کو ایوان کی ملکیت بنانے کا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ جسٹس یشونت ورما کے متعلق راجیہ سبھا میں مواخذے کی تحریک مسترد کئے جانے کے بیان پر کانگریس نے مودی حکومت پر جم کر تنقید کی ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن ابھیشیک منو سنگھوی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 21 جولائی 2025ء کو کانگریس اور دیگر پارٹیوں نے جسٹس ورما کے ذریعہ کی گئیں مختلف بے ضابطگیاں، خاص طور سے قانون کے مطابق ایک قانونی تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کے لئے راجیہ سبھا میں ایک فیصلہ کن آئینی قرارداد پیش کی۔ اس تجویز پر راجیہ سبھا اراکین کے دستخط تھے۔ اس کے علاوہ ایک اور قرارداد پر 152 ارکین پارلیمنٹ کے دستخط تھے۔
ابھیشیک منو سنگھوی کے مطابق جب راجیہ سبھا کے سابق چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے وزیر قانون سے پوچھا کہ کیا دوسری تحریک لوک سبھا میں پیش کی گئی ہے، تو مرکزی وزیر میگھوال نے اثبات میں جواب دیا، لیکن کل سابق وزیر قانون کرن رجیجو نے دعویٰ کیا کہ راجیہ سبھا میں کوئی بھی تجویز قبول نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی امور سے واقف کسی بھی شخص کو اس میں کوئی شک نہیں کہ جگدیپ دھنکھڑ کا ارادہ اس روز تحریک کو ایوان کی ملکیت بنانے کا تھا اور واضح طور پر لوک سبھا کے تعاون کے ساتھ آگے بڑھنا تھا۔ آج یہ سارا ڈرامہ کس لئے ہو رہا ہے۔ مودی حکومت غیر محفوظ ہے کیونکہ وہ بیانیہ کو کنٹرول نہیں رکھ سکتی۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ ہماری جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے کے بارے میں ہے، جب اقتدار کا نشہ حکمران جماعت کو اس حد تک مدہوش کر دیتا ہے کہ وہ اپنے ہی راجیہ سبھا چیئرمین کو ادارہ جاتی طور پر نقصان پہنچانے کے لئے تیار ہو جاتی ہے، تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت نے آج دکھا دیا ہے کہ کوئی بھی ادارہ محفوظ نہیں ہے، نہ پارلیمنٹ، نہ عدلیہ اور نہ ہی ایوان بالا کی کرسی، یہ آمرانہ حکمرانی ہے، نفرت کی حکمرانی ہے، نہ کہ قانون کی حکمرانی ہے۔
ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ مودی حکومت میں مختلف پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلنے کا جذبہ کبھی نہیں رہا ہے۔ ان کا تکبر ہی ان کے عجیب و غریب فیصلوں کی وجہ ہے۔ مودی حکومت کے تکبر کی وجہ سے جسٹس ورما کے معاملہ میں غلطی ہو رہی ہے۔ اس طرح کے تضادات پیدا کر کے قانونی کمیٹی کی تقرری کے سلسلے میں کیا حکومت جان بوجھ کر یا انجانے میں جسٹس ورما کو اضافی چھوٹ نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا حکومت کی طرف سے کوئی چور دروازہ کھولا جا رہا ہے، تاکہ اس قانونی کمیٹی کو مستقبل میں عدالت کے ذریعہ ختم کر دیا جائے۔
یہ واضح ہے کہ عدلیہ کو عوام اور پارلیمنٹ سے کوئی خوف نہیں ہے، بلکہ عدلیہ کے اصولوں کو بی جے پی حکومت کی ایگزیکٹو سے خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔ کانگریس راجیہ سبھا رکن کے مطابق خالی کاغذات پر دستخط کرنے کی مہم جسٹس ورما اور جسٹس یادو کے بارے میں نہیں تھی، بلکہ مستقبل میں تجویز کردہ مواخذے کی تحریک کی تیاری کے ئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ راج ناتھ سنگھ کے دفتر میں کیا ہوا اور دھنکھڑ نے استعفیٰ کیوں دیا۔ انہون نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ اس میں ایک سیاسی سازش شامل ہے، جو آئینی جھوٹ میں لپٹی ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مودی حکومت راجیہ سبھا نے کہا کہ انہوں نے سبھا میں
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔