بانی پی ٹی آئی ذہنی دباؤ کا شکار، فیلڈ مارشل کیخلاف مہم کی قیادت کررہے: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ، نیوز رپورٹر) وزیر اطلاعات وثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا پاک فوج نے "آپریشن بنیان مرصوص" میں تاریخی فتح حاصل کر کے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ پوری دنیا آج پاکستان کی مسلح افواج کی دفاعی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت کو تسلیم کر رہی ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی اعلیٰ جنگی حکمت عملی نے بھارت کو جنگ بندی پر آمادہ کیا۔ انہوں نے کہا پاکستان کا نوجوان طبقہ بھارت کے خلاف اس تاریخی کامیابی پر اپنی بہادر افواج کو بھرپور خراج تحسین پیش کررہا ہے۔ بانی پی ٹی آئی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا پھیلا رہی ہے۔ جو شخص اپنے دور حکومت میں سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے کی پالیسی پر گامزن تھا، آج وہی قانون کی حکمرانی کا راگ الاپ رہا ہے۔ 9 مئی کے فسادات میں ملوث سازشی کرداروں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے مطابق سزائیں دی جا رہی ہیں، یہی اصل قانون کی بالادستی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔