اپوزیشن کے معطل اراکین پنجاب اسمبلی کیخلاف ریفرنس کے معاملے پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
اپوزیشن کے معطل اراکین پنجاب اسمبلی کیخلاف ریفرنس کے معاملے پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل WhatsAppFacebookTwitter 0 12 July, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس) اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اپوزیشن کے معطل ارکان کیخلاف ریفرنس کے معاملے پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے 8رکنی حکومتی کمیٹی تشکیل دیدی۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں چیف وہپ رانا ارشد، وزیر پارلیمانی امور مجتبی شجاع الرحمان، صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق، سمیع اللہ خان اور احمد اقبال شامل ہیں۔
ان کے علاوہ پیپلز پارٹی سے علی حیدر گیلانی، ق لیگ سے چویدری شافع حسین اور آئی پی پی سے شعیب صدیقی مذاکرتی کمیٹی میں شامل ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے اپوزیشن لیڈر احمد بھچر، پارلیمانی لیڈر علی امتیاز وڑائچ صدر لاہور شیخ امتیاز ، اعجاز شفیع اور دیگر کے نام سپیکر کو آج بھجوائے جانے کاامکان ہے۔
اپوزیشن لیڈراحمد خان بھچر معطل ارکان کے کے معاملہ پر مذاکراتی کمیٹی آج ہی بنائیں گے۔
اپوزیشن اور حکومتی اتحاد کی مذاکرتی کمیٹی کا دوسرا سیشن کل بروز اتوار کوساڑھے چار بجےپنجاب اسمبلی میں ہوگا۔
حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کےلیے آج ہی سفارشات مرتب کر لی جائیں گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراحبابِ فکر و عمل تنظیم کی شجر کاری مہم – سرسبز پاکستان کی جانب ایک مثبت قدم بھارت کو بڑا دھچکا، برازیل نے آکاش میزائل سسٹم کی خریداری سے انکار کردیا سید پور گاؤں میں سی ڈی اے کا بڑا آپریشن، درجنوں غیر قانونی مکانات خالی کرا لیے گئے پشاور ہائی کورٹ کا اعظم سواتی کو نیب تفتیش جوائن کرنے کا حکم سکیورٹی فورسز کے شہدا کے لئے لفظ ’ہلاک‘ استعمال کرنے پر پابندی عائد بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ، مسلم ممالک کیخلاف جارحیت کی منصوبہ بندی جاری بھارت کو ایک بار پھر منہ کی کھانی پڑی، پاکستانی ایڈیشنل فارن سیکریٹری نے تارے دکھا دیےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: حکومتی مذاکراتی کمیٹی پنجاب اسمبلی کمیٹی تشکیل
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔