بھارت میں تعلیم، روزگار اور صحت جیسے بنیادی شعبے بدترین زوال کا شکا ہوگئے، مودی سرکار کی کرپشن نے بھارت کی بنیادی سہولیات کو نااہلی اور لوٹ مار کا شکار بنا دیا۔

بی جے پی کے طویل اقتدار کے دوران بھارت میں تعلیم جیسی بنیادی سہولت بھی مسلسل نظر انداز ہونے لگی۔

راجستھان میں اسکول کی چھت گرنے سے معصوم بچوں کی موت، مودی کی تعلیم دشمن پالیسیوں اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

بھارتی جریدے دی پرنٹ کے مطابق ’’راجستھان کے ضلع جھالاواڑ کے گاؤں پیپلودی میں سرکاری اسکول کی چھت گرنے سے 7 طلباء کی موت اور 28 شدید زخمی ہوگئے، حادثہ اس وقت پیش آیا جب طلباء صبح کی اسمبلی کے لیے جمع ہو رہے تھے کہ چھت اچانک زمین بوس ہوگئی۔‘‘

دی پرنٹ کے مطابق تقریباً 35 بچے ملبے تلے دب گئے، جنہیں مقامی افراد، اساتذہ نے اپنی مدد آپ کے تحت نکالا۔ جائے حادثہ پر خوفناک چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی، جب والدین اور اہلِ علاقہ بچوں کو زندہ نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔

بھارتی جریدے کے مطابق 7 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور باقی زخمی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جاں بحق بچوں کی عمریں 14 سے 16 سال کے درمیان تھیں، 9شدید زخمی بچوں کو جھالاواڑ ڈسٹرکٹ اسپتال کے آئی سی یو میں داخل کیا گیا ہے۔

اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ اسکول کی خستہ حالی سے متعلق انتظامیہ کو کئی بار مطلع کیا گیا مگر انتظامیہ نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا، بارشوں سے کمزور عمارت بروقت توجہ نہ ملنے پر زمین بوس ہوئی، اصل وجہ ناقص اور بوسیدہ ڈھانچہ نکلا۔

مودی راج میں اسکول انفرا اسٹرکچر کرپٹ بیوروکریسی اور کرپشن کی نذر ہوگیا، معصوم بچے ملبے تلے دفن ہوگئے۔ بھارت میں بنیادی سہولیات نظ رانداز، بدانتظامی کے باعث عوام کی جان و مال مسلسل خطرے میں ہے۔

مودی سرکار صرف تعزیتی بیانات تک محدود جبکہ خستہ حال اسکول عمارتوں کی مرمت، فنڈنگ یا تحفظ کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں۔ مودی سرکار کے بلند و بانگ ترقی کے دعوے صرف سیاسی نعروں اور اشتہاری مہمات تک محدود ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارت میں

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی