وزیر خارجہ اسحق ڈار اور ترکیہ کے وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
پاک ترک وزرائے خارجہ نے غزہ میں اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ اسحق ڈار اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فیدان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی اور انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دو رہنماؤں نے غزہ میں اسرائیل کے جاری مظالم کی شدید مذمت کی اور بھوک، جبری نقل مکانی، اور بے گناہ جانوں کے ضیاع سمیت بڑھتے ہوئے انسانی المیے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے انسانی امداد کی بلارکاوٹ فراہمی، فوری جنگ بندی، اور ایک منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے لیے عالمی سطح پر متحد کوششوں کی فوری ضرورت پر زور دیا۔فلسطینی عوام اور ان کے جائز موقف کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے، دونوں رہنماں نے اقوام متحدہ میں آج ہونے والی دو ریاستی حل پر عملدرآمد سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے ٹھوس اور بامعنی نتائج کی امید ظاہر کی.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کا اظہار
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔