اسلام آباد:

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کئی دہائیوں میں پہلی بار بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی آنا انتہائی خوش آئند ہے، خسارے میں کمی سے ان کمپنیوں کی نجکاری کا عمل آسان ہوجائے گا۔

یہ بات انہوں ںے اپنی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس سے خطاب میں کہی۔ اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

وزیراعظم نے وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری، وفاقی سیکریٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر محمد فخر عالم اور ان کی ٹیم کی ستائش کرتے ہوئے پاور سیکٹر اصلاحات کے حوالے سے ان کی شاندار کارکردگی کو سراہا۔

وزیراعظم نے بہترین کارکردگی دکھانے والی اور خسارے میں کمی لانے والی بجلی کی تقیسم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کو ستائشی خطوط بھیجنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی کی تقیسم کار کمپنیوں اور گردشی قرضوں پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی تقیسم کار کمپنیوں کا خسارہ 193 ارب روپے کم ہوا ہے، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی نے خسارے میں کمی کے حوالے سے سب سے اچھی کارکردگی دکھائی، بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں 242 ارب روپے کی بہتری آئی ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ گردشی قرضوں کا فلو 780 ارب روپے رہا ہے۔ 

کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاور ڈویژن کی سفارش پر نیشنل الیکٹریسٹی پلان اسٹریٹجک ڈائریکٹو 87 میں ترامیم کی منظوری دے دی۔ ان ترامیم کے تحت بجلی کی ترسیل کے اخراجات (wheeling charges) 12.

55 روپے فی کلو واٹ اور بڈنگ پرائس اس میں شامل ہوگی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈیپینڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کی آپریشنلائزیشن کا کام مکمل ہو چکا ہے، اسی طرح نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی اور بجلی تقیسم کار کمپنیوں میں مارکیٹ آپریشنز کے محکموں تشکیل دیے جا چکے ہیں۔
 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بجلی تقیسم کار کمپنیوں پاور ڈویژن اجلاس کو

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش