UrduPoint:
2026-06-03@08:41:46 GMT

ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار کے پہلے سو روز کیسے رہے؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT

ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار کے پہلے سو روز کیسے رہے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 30 اپریل 2025ء) دوبارہ منتخب ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری 2025 کے دن وائٹ ہاؤس واپس آئے اور اپنے ایجنڈے پر تیزی سے عمل درآمد کرتے ہوئے بہت سے صدارتی فرامین پر دستخط کیے۔

انہوں نے اپنے پہلے 100 دنوں میں جن صدارتی ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے، ان میں امیگریشن، مساوی مواقع کے اقدامات اور ٹرانس جینڈر کے حقوق کو نشانہ بنایا گیا۔

ان کی ٹیرف کی حکمت عملی نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ٹرمپ کی انتظامیہ نے روایتی یورپی اتحادیوں کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے یوکرین میں روس کی جنگ کے خاتمے کے لیے جارحانہ انداز میں کوشش کی ہے۔

یوکرین کے لوگ ٹرمپ کے امن منصوبے کے متعلق کیا سوچتے ہیں؟

سو روز کی تکمیل پر ٹرمپ نے جشن کیسے منایا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت صدارت کا 100 واں دن انتخابی مہم کے انداز میں منایا اور اپنی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے سیاسی دشمنوں کو نشانہ بھی بنایا۔

(جاری ہے)

انہوں نے مشیگن میں حامیوں کے ایک ہجوم سے کہا کہ وہ اپنی صدارت کا استعمال "دور رس تبدیلی" کے لیے کر رہے ہیں۔

ریپبلکن صدر نے اپنے ڈیموکریٹک پیشرو جو بائیڈن کا مذاق اڑایا اور امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین پر پھر سے تنقید کی، جبکہ انہوں نے اپنی مقبولیت میں کمی کو ظاہر کرنے والے پولز کو مسترد کر دیا۔

ٹرمپ نے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی تعداد میں ڈرامائی کمی کی ہے، تاہم معیشت ایک ممکنہ سیاسی خطرے کے سائے تلے ہے کیونکہ انہوں نے ایک عالمی تجارتی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔

ٹرمپ نے منگل کے روز ڈیٹرائٹ کے مضافاتی علاقے میں ہجوم کو بتایا، "ہم نے ابھی شروعات کی ہے، آپ نے ابھی تک کچھ نہیں دیکھا ہے۔"

تجارتی جنگ: ٹرمپ کا صدر شی سے گفتگو کا دعویٰ، چین کا انکار

اس سے ایک روز پہلے انہوں نے اپنے اقتصادی منصوبے کے ایک اہم عنصر، غیر ملکی کاروں اور کاروں کے پرزوں کی درآمد پر محصولات کو تھوڑا نرم کر دیا ہے، کیونکہ امریکی کار سازوں نے قیمتوں میں اضافے کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔

اپنی ریلی میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ رائے عامہ کے سروے جو ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی مقبولیت میں کمی آئی ہے وہ "جعلی" ہیں۔

کییف پر حملوں کے بعد ٹرمپ کی پوٹن پر تنقید

مقبولیت میں کمی

گیلپ کے مطابق ٹرمپ دوسری جنگ عظیم کے بعد کے ایسے واحد صدر ہیں، جنہیں 100 دن کے اقتدار کے بعد عوام کی نصف سے بھی کم حمایت حاصل ہے، جو 44 فیصد ہے۔

لیکن ریپبلکن ووٹروں کی اکثریت اب بھی ٹرمپ کی مضبوطی سے حمایت کرتی ہے اور حریف ڈیموکریٹک پارٹی بھی پولنگ میں مشکلات کا شکار ہے۔

ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی (ڈی این سی) نے کہا کہ ٹرمپ کے پہلے 100 دن ایک "زبردست ناکامی" تھے۔

اس نے کہا، "ٹرمپ اس حقیقت کے لیے ذمہ دار ہیں کہ زندگی زیادہ مہنگی ہے، ریٹائر ہونا مشکل ہے اور 'ٹرمپ کساد بازاری' ہماری دہلیز پر ہے۔

"

ٹرمپ سعودی عرب کو 100 بلین ڈالر سے زائد کا اسلحہ پیکج دینے کو تیار

اپنی تقریر کے دوران ٹرمپ نے ملک بدر کرکے امریکہ سے نکالے جانے اور ایل سلواڈور کی ایک میگا جیل میں بھیجے جانے کی ویڈیو بھی دکھائی۔

منگل کی تقریر کے دوران ٹرمپ نے اصرار کیا کہ انڈے کی قیمتوں میں 87 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ یہ دعویٰ حکومت کی قیمتوں کے تازہ ترین اعداد و شمار سے متصادم ہے۔

ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مہنگائی، توانائی کی قیمتیں اور رہن کے نرخوں میں کمی آئی ہے، اگرچہ بے روزگاری میں قدرے اضافہ ہوا ہے، صارفین کے جذبات میں کمی آئی ہے اور ٹیرف کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ ہنگامہ آرائی میں ڈوب چکی ہے۔

ص ز/ ج ا (نیوز ایجنسیاں)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے ٹرمپ کے کے بعد

پڑھیں:

گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ

​حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔

رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟

جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔

اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔

اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔

زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔

خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔

​نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔

​پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔

قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

​لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔

​یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سیدہ سفینہ ملک

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں