شیری رحمٰن — فائل فوٹو

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا صحافتی منظرنامہ سنسرشپ، ڈرانے دھمکانے، صحافیوں پر تشدد جیسے ناخوشگوار واقعات سے بھرا ہوا ہے۔

شیری رحمٰن نے آزادی صحافت کے عالمی دن پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا بھر میں آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ آج کا دن ہمیں صحافیوں اور میڈیا تنظیموں کو درپیش چیلنجز پر غور کرنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔

صحافی کو ایف آئی اے سائبر کرائم کراچی نے گرفتار کر لیا

کراچی پاکستان کے سوشل میڈیا پر نجی چینل کے سابق.

..

ان کا کہنا ہے کہ صحافیوں اور صحافتی اداروں کا جمہوری عمل، معاشرے کی تشکیل اور احتساب میں اہم کردار ہے۔ عوام کو آگاہ کرنے اور اقتدار میں رہنے والوں کو جوابدہ بنانے میں صحافیوں کے ناگزیر کردار کی عزت کرتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمشیہ میڈیا کی آزادی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، آزادی صحافت کے لیے پیپلز پارٹی اپنے عزم پر کھڑی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم صحافیوں کے حقوق اور دفاع میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ شہید بےنظیر بھٹو، صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کی حمایت کی مثال قائم کر چکے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی آزادی صحافت

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار