آرٹیکل 19 چند ضوابط کے تحت آزاد صحافت کی ضمانت دیتا ہے: صدر مملکت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
سٹی42: صدر آصف علی زرداری کا آزادی صحافت کے عالمی دن پرپیغام، کہا کہ پاکستان میں ایک آزاد اور ذمہ دار پریس کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
تفصیلات کےمطابق صدر آصف علی زرداری کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ غزہ اور فلسطین جیسے جنگ زدہ علاقوں میں رپورٹنگ کے دوران جانیں گنوا دینے والے صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،دستورِ پاکستان کا آرٹیکل 19 چند ضوابط کے تحت آزادی اظہار اور آزاد صحافت کی ضمانت دیتا ہے۔
پرائیویٹ ہسپتال ،لیب،مارکیز سمیت11کیٹگریزکوٹیکس نیٹ میں شامل کرنیکافیصلہ
میڈیا مکالمے کے فروغ ، سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی مسائل اجاگر کرنے کیلئے ناگزیر ہے ،بدعنوانی بے نقاب کرنے ، پسماندہ طبقات کیلئے آواز بلند کرنے میں میڈیا کا اہم کردارہے، ہم نے صحافیوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے بہت سے اقدامات لیے ،صحافیوں کو محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
ایسا ماحول جہاں صحافی خوف و ہراس کے بغیر اپنے فرائض سرانجام دے سکیں وقت کی ضرورت ہے، میڈیا اعلیٰ صحافتی معیار، خبروں میں درستگی اور پیشہ ورانہ مہارت برقرار رکھے ،جعلی خبروں، غلط معلومات ، سنسنی کے ماحول میں میڈیا کی ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے۔
فالس فلیگ کا بھانڈا پھوڑنے پر بھارت کی بوکھلاہٹ، وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ پر سائبر حملے
صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ شہریوں کے حقوق ، ذمہ داریوں ، سماجی و اقتصادی مسائل بارے آگاہی پیدا کرنے میں میڈیا کا اہم کردار ہے، جمہوری عمل میں عوام کی شرکت کی حوصلہ افزائی کیلئے میڈیا کا کردار اہم ہے، پریس کو عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا چاہیے ،میڈیا کو بے آواز لوگوں کی آواز بننا چاہیے، آزادی صحافت جمہوریت کا ایک لازمی عنصر ہے۔
آئیے آزادی صحافت کے تحفظ اور فروغ کے عزم کی تجدید کریں، امید ہے کہ حکومت آزادی صحافت ، صحافیوں کے تحفظ، وقار اور آزادی کیلئے کام جاری رکھے گی، امید ہے کہ ہمارا میڈیا قومی اور عالمی اہمیت کے مسائل پر آگاہی فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
الیکٹرک بسوں کی درآمد کے ٹینڈر منسوخی کی وجہ سامنے آگئی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔