آزادی صحافت کا عالمی دن آج منایا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
اسلام آباد:
اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آزادی صحافت کا عالمی دن آج 3 مئی کومنایا جائے گا۔
اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد صحافت کے بنیادی اصولوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا، پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران صحافیوں اور صحافتی اداروں کو درپیش مشکلات، مسائل، دھمکی آمیز رویوں اور زندگیوں کو لاحق خطرات سے متعلق آگاہ کرنا ہے۔
اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں مختلف پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا، صدرمملکت آصف علی زرداری نے اس دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آئین پاکستان آزادی اظہار و آزادی صحافت کا ضامن ہے، مکالمے کے فروغ ، سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی اہمیت کے مسائل اجاگر کرنا، بدعنوانی بے نقاب کرنے اور پسماندہ طبقات کے لیے آواز بلند کرنے میں میڈیا کا کردار ناگزیر ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں دنیا تک حقائق پہنچانے کی جد و جہد میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے میڈیا ورکرز کو ان کی قربانیوں پر خراج تحسین پیش کیا ہے ۔
وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے، میڈیا کو جھوٹ، فیک نیوز، پروپیگنڈے، غیر ملکی ایجنڈوں اور سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔