بھارت کی ممکنہ جارحیت کی اطلاع ملی تھی، قوم کو آگاہ کرنا ضروری تھا، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی و قانونی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے ممکنہ حملے کی مصدقہ اطلاع ملی تھی، اسی لیے قوم کو بروقت آگاہ کیا گیا۔ ممکن ہے بھارت نے حملے کا ارادہ کیا ہو اور بعد میں ملتوی کر دیا ہو۔ بھارت سے ہمیں ہر وقت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ وہ کسی بھی وقت جارحیت کر سکتا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر بھارت نے کوئی حرکت کی تو پاکستان بھرپور اور بروقت جواب دے گا۔ ہماری خواہش ہے کہ بھارت ایسی کسی مہم جوئی سے باز رہے، لیکن ہمیں ہر لمحہ تیار رہنا ہوگا۔
پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے مشیر وزیر اعظم نے کہا کہ اگر بھارت نے پاکستان کے پانی کا رُخ موڑنے کی کوشش کی تو یہ ناقابل برداشت ہوگا۔ پانی ہماری لائف لائن ہے، اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت طویل عرصے سے سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: دہشتگردی اور دہشتگردوں کی بالواسطہ حمایت ناقابل قبول ہے، رانا ثنا اللہ
رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کو 3 بڑے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی:
1: سندھ طاس معاہدے کی معطلی۔
2: مقبوضہ کشمیر میں مزید ظلم اور انسانی حقوق کی پامالی،
3: پاکستان کی بہتر ہوتی معیشت کو سبوتاژ کرنا۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کی ایسی مثالیں سامنے آئی ہیں جو ماضی میں نہیں دیکھی گئیں، اور بھارت مظالم کی رپورٹس کو دنیا سے چھپا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان واقعات میں ملوث ’را‘ دہشتگردوں کی ’ماں‘ کا کردار ادا کر رہی ہے، رانا ثنا اللہ
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہیں اور قومی سلامتی کے معاملے پر مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی کے حالیہ اعلامیے کی تمام جماعتوں نے حمایت کی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نواز شریف کو اپنی دونوں حکومتوں پر پورا اعتماد ہے اور انہوں نے ہمیشہ ملکی مفادات کو مقدم رکھا۔ ملکی قیادت نے ہر مشکل وقت میں دانشمندی اور تدبر کا مظاہرہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت بھارت حملہ پاکستان رانا ثنا اللہ قومی سلامتی کمیٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت بھارت حملہ پاکستان رانا ثنا اللہ قومی سلامتی کمیٹی رانا ثنا اللہ نے نے کہا کہ بھارت نے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ