WE News:
2026-07-24@07:58:50 GMT

سعودی عرب کی جانب سے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت

اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT

سعودی عرب کی جانب سے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت

سعودی عرب نے غزہ میں اسرائیلی افواج کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور فلسطینی عوام کے خلاف جاری جرائم کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری کی خاموشی اس مجرمانہ روش کو مزید تقویت دے رہی ہے، جو نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ بنیادی انسانی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کا لکسمبرگ کے ریاستِ فلسطین تسلیم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی اس پالیسی کے تسلسل سے غزہ کے عوام اور باسیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ سعودی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ اسرائیلی جنگی مشین، قتل و غارت، بھوک اور جبری ہجرت کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر فیصلے کیے جائیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کرنا اور اسرائیلی قابض افواج کو عالمی قوانین کا پابند بنانا ناگزیر ہے، تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے اور اجتماعی نسل کشی و جبری ہجرت جیسے مظالم کا خاتمہ یقینی ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اجتماعی نسل کشی اسرائیل اسرائیلی افواج سعودی عرب غزہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیلی افواج

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم