حب کینال کی تباہی کے بعد کراچی پانی کے شدید بحران کا شکار ہے، حلیم عادل شیخ
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا ہے کہ 12 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی یہ کینال ناقص مٹیریل اور نااہلی کے باعث ایک ماہ بھی نہ چل سکی، اس کی مرمت کے بجائے حکومت نے ناکامی چھپانے کے لیے کینال کو مٹی میں دبا دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کراچی میں بڑھتے ہوئے پانی کے بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حالیہ بارشوں کے دوران نئی تعمیر شدہ حب کینال ٹوٹ گئی جبکہ حب ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن سے نکلنے والی 66 انچ قطر کی بڑی پائپ لائن بھی پھٹ گئی جس کے بعد کئی اضلاع میں پانی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ 12 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی یہ کینال ناقص مٹیریل اور نااہلی کے باعث ایک ماہ بھی نہ چل سکی، اس کی مرمت کے بجائے حکومت نے ناکامی چھپانے کے لیے کینال کو مٹی میں دبا دیا۔
حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ روزانہ لاکھوں گیلن پانی ضائع ہورہا ہے اور 9 ستمبر سے ضلع سینٹرل، کیماڑی اور ویسٹ کے کئی علاقے پانی سے محروم ہیں، اب مزید علاقوں میں بھی سپلائی بند ہوگئی ہے۔ پی ٹی آئی سندھ صدر نے کہا کہ پیپلز پارٹی، میئر اور کے ایم سی کی پالیسیاں کراچی کو کھنڈر بنا رہی ہیں، یہ عوام پر ظلم ہے، پیپلز پارٹی کی کراچی دشمنی کا حساب عوام لیں گے، تحریک انصاف کراچی کے عوام کے ٹیکس کا پیسہ یوں ہضم نہیں ہونے دے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔