چترال میں شدید بارشیں، سیلاب نے تباہی مچادی
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
چترال کے مختلف علاقوں میں شدید بارش کی وجہ سے 20مقامات پر سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، جہاں ایک مسجد شہید ہوئی، کئی گاڑیاں، زرعی اراضی اور مرکزی شاہراہ سمیت رابطہ سڑکیں بہہ گئیں اور کئی گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
لواری ٹنل اور اطراف میں بارش کے بعد عشریت اور دوسرے مقامات پر ندی نالوں میں طغیانی سے سیلابی ریلوں میں اضافہ ہو گیا ہے جس سے چترال-پشاور مرکزی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کئی گھنٹوں تک بند رہی اور سیکڑوں مسافر گاڑیاں لواری ٹنل میں پھنس کر رہ گئیں۔
لواری ٹنل چترال کی طرف پھنسے مسافروں کو سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے شدید مشکلات کاسامنا ہے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی حکام نے بتایا کہ متاثرہ روڈ کی صفائی کا کام جاری ہے، جگہ جگہ سیلابی ریلے آنے کے باعث ٹریفک بحال کر نے کرنے کے لیے کام جاری ہے۔
ادھر دیر،چترال شاہراہ اور دیگر سڑکیں ٹریفک کے لیے بحال کردی گئی ہیں۔
چترال کی ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سیلابی صورت حال میں شہری بلاوجہ گھروں سے نہ نکلیں کیونکہ مزید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں شدید گرمی کے پیش نظر چونگ چنگ چڑیا گھر نے جانوروں کو محفوظ اور آرام دہ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑوں اور دیگر جانوروں کو ٹھنڈے پانی، پھلوں اور جدید کولنگ سسٹمز کے ذریعے گرمی سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چونگ چنگ چڑیا گھر میں دیوقامت پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑے اور دیگر جانوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ٹھنڈے پانی کے تالاب، مصنوعی بارش (مسٹنگ سسٹم)، سایہ دار مقامات اور خصوصی خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔
چڑیا گھر میں موجود دیوقامت پانڈا دن کے گرم اوقات میں پانی کے تالابوں میں وقت گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے باڑوں میں مسلسل پانی کی باریک پھوار چلائی جا رہی ہے تاکہ درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔
اسی طرح دریائی گھوڑوں اور ہاتھیوں کو جسمانی درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے تربوز اور دیگر پانی سے بھرپور پھل کھلائے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے لیے نہانے اور پانی میں رہنے کے اضافی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانڈا نسبتاً ٹھنڈے موسم کے جانور ہیں اور شدید گرمی ان کی صحت، خوراک اور روزمرہ سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے چین کے مختلف چڑیا گھروں میں موسمِ گرما کے دوران کولنگ سسٹمز، برف کے بلاکس، ایئر کنڈیشنڈ انڈور حصوں اور پانی سے بھرپور غذا کا استعمال معمول کا حصہ بن چکا ہے۔
چونگ چنگ چین کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث مقامی انتظامیہ نے نہ صرف شہریوں بلکہ جنگلی اور قید جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی منصوبے نافذ کیے ہیں۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران جانوروں کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کے ماحول، خوراک اور طبی نگہداشت میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ شدید گرمی کے باوجود انہیں کسی قسم کی تکلیف یا صحت کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں