اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 مئی2025ء)اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ آزادیِ صحافت جمہوریت کی بنیاد ہے،ملک کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے اور ایک باخبر معاشرے کی تشکیل میں صحافتی برادری کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، آئین پاکستان آزادی اظہار رائے کی ضمانت دیتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر کیا جو ہر سال تین مئی کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پارلیمان کی پریس گیلری میں موجود صحافی حضرات ایوان میں ہونے والی قانون سازی اور کارروائی کو عوام تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے اور حقائق اور سچ کو سامنے لانے کے لیے صحافی حضرات نے قابل فراموش قربانیاں پیش کی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور باخبر معاشرے کی تشکیل میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ صحافی حضرات اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر حقائق کو سامنے لانے کے لیے شورسزدہ علاقوں میں اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین، مقبوضہ کشمیر اور دیگر شورسزدہ علاقوں میں پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دینے والے صحافی حضرات کو سلام پیش کرتا ہوں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہر سال دنیا میں صحافیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہو جاتی ہے جو قابل مذمت ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ صحافی حضرات کی پیشہ ورانہ خدمات کی انجام دہی کے دوران تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اجتماعی سطح پر ایک مربوط لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان آزادی صحافت پر مکمل یقین رکھتی ہے اور صحافی برادری کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان نے رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ، 2017 منظور کر کے عوام کو معلومات تک رسائی کا حق دیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں پاکستانی میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی صحافتی برادری نے غیر معمولی پیشہ ورانہ سنجیدگی اور حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کے ذریعے عالمی برادری کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کیا۔اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفی شاہ نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان آزادیِ اظہار پر مکمل یقین رکھتی ہے اور صحافیوں کو درست اور بروقت معلومات تک رسائی دینے کے لیے پر عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی نے ہمیشہ صحافیوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے قانون سازی کی ہے، اور اس سلسلے میں مزید بہتری کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ صحافی حضرات پیشہ ورانہ کے لیے

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن