کراچی پورٹ اینڈ شپنگ کی جائیداد من پسند افراد کو ٹرانسفر کرنے کا ریفرنس، کامران مائیکل سمیت تمام ملزمان بری
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
فائل فوٹو
کراچی کی احتساب عدالت نے کراچی پورٹ اینڈ شپنگ کی جائیداد من پسند افراد کو ٹرانسفر کرنے کے ریفرنس میں سابق وفاقی وزیر کامران مائیکل سمیت تمام ملزمان کو بری کردیا۔
سابق وفاقی وزیر کامران مائیکل اور دیگر ملزمان آج عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ احتساب عدالت نے کامران مائیکل سمیت 29 ملزمان کے خلاف ریفرنس ختم کردیا۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ 2018 میں سیاسی رنجش کی بنا پر ریفرنس بنایا گیا ہے، کامران مائیکل کو 6 ماہ تک جیل میں رکھا گیا۔
یاد رہے کہ 2019 میں نیب نے مسلم لیگ ن کے رہنما و سابق وفاقی وزیر کامران مائیکل کو بحیثیت وفاقی وزیر اختیارات کے غلط استعمال کے الزام میں گرفتار بھی کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کامران مائیکل وفاقی وزیر
پڑھیں:
پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔