شہید صوبیدار لیاقت علی کی چوتھی برسی پر عقیدت کے پھول
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
آج پاک فوج کے بہادر سپاہی صوبیدار لیاقت علی شہید کی چوتھی برسی عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔
وطن کی محبت میں جان نچھاور کرنا پاک فوج کے جوانوں کی پہچان ہے، اور دفاع وطن میں اپنی جان قربان کرنے والے انہی جری سپوتوں میں صوبیدار لیاقت علی شہید کا نام بھی سنہری حروف سے لکھا گیا ہے۔
ضلع گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے اس بہادر سپاہی نے 25 جولائی 2021 کو آزاد کشمیر میں ڈیوٹی کے دوران شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔ ان کی قربانی نہ صرف پاک فوج بلکہ پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے۔
قوم آج اپنے اس عظیم فرزند کو سلام پیش کرتی ہے جس نے وطن کی سلامتی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ صوبیدار لیاقت علی شہید کی یہ قربانی آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے اور ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔
وطن کی محبت میں اپنی جان قربان کرنے والے تمام شہداء کو ہمارا سلام۔ صوبیدار لیاقت علی شہید جیسے جانثاروں کی قربانیوں کی بدولت ہی ہم محفوظ وطن میں سکون کی زندگی گزار رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صوبیدار لیاقت علی شہید
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔