پی آئی اے کے برطانیہ فلائٹ آپریشن کی تیاریوں اور انتظامات سے متعلق اہم پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
پی آئی اے کے برطانیہ فلائٹ آپریشن کی تیاریوں اور انتظامات کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق برطانیہ میں قومی ایئرلائن پی آئی اے کی پروازوں کے معاملے میں قومی فضائی کمپنی کا 2 رکنی اعلیٰ سطح کا وفد پہلی پرواز کے برطانیہ میں انتظامات کا جائزہ لینے مانچسٹر پہنچ گیا ہے۔
پی آئی اے کی ٹیم چیف آپریٹنگ آفیسر خرم مشتاق کی سربراہی میں برطانوی شہر مانچسٹر پہنچی جہاں سی ای او پی آئی اے کے جی ایم کوآرڈینیشن ذوالقرنین مہدی بھی ٹیم کے ہمراہ ہیں۔
واضح رہے کہ پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی ہٹنے کے بعد پہلی پرواز 14 اگست سے چلانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
پی آئی اے کا 2 رکنی اعلی سطح کا وفد سی ای او پی آئی اے کی ہدایت پر برطانیہ کے فلائٹ آپریشن کی بحالی سے قبل انتظامات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گا۔ ابتدائی طور پی آئی اے اسلام آباد مانچسٹر کے درمیان ہفتہ وار 4 پروازیں چلانے کا پلان تیار کرلیا گیا ہے۔
مانچسٹر کے بعد پی آئی اے کا لندن اور برمنگھم کی پروازوں کو بھی شروع کرنے کا پلان ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پی آئی اے کی
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔