UrduPoint:
2026-06-03@07:36:40 GMT

مالیگاؤں بم دھماکہ: بی جے پی کی رہنما سمیت تمام ملزم بری

اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT

مالیگاؤں بم دھماکہ: بی جے پی کی رہنما سمیت تمام ملزم بری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 31 جولائی 2025ء) بھارتی ریاست مہاراشٹر کے مالیگاؤں میں ایک طاقتور بم پھٹنے کے تقریباً 17 برس بعد ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے جمعرات کے روز اس کیس کے تمام سات ملزمان کو بری کر دیا۔ اس دھماکے میں چھ مسلمان مارے گئے تھے اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

سات ملزمین میں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی سابق رکن پارلیمان پرگیہ ٹھاکر اور بھارتی فوج کے ایک سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل پرساد شری کانت پروہت بھی شامل ہیں۔

یہ دھماکہ 29 ستمبر سن 2008 کی رات کو رمضان کے مقدس مہینے میں ممبئی سے تقریباً 200 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مسلم اکثریتی شہر مالیگاؤں کی بھیکو چوک کے قریب ہوا تھا۔

اس کیس کی تفتیش قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے کی تھی اور خصوصی عدالت کے جج اے کے لاہوتی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کیس میں الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے اور تمام ساتوں ملزم شک سے فائدہ اٹھانے کے مستحق ہیں۔

(جاری ہے)

عدالت نے مزید کیا کہا؟

ابتدا میں اس معاملے کی تحقیقات کی قیادت مہاراشٹرا انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے کی تھی، جس کے اس وقت سربراہ ہیمنت کرکرے تھے، جو بعد میں 26/11 کے ممبئی کے حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

اے ٹی ایس نے اس سلسلے میں اپنی پہلی گرفتاری اکتوبر 2008 میں کی تھی۔ دھماکے میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والی موٹرسائیکل بی جے پی کی سابق رکن پارلیمان پرگیہ ٹھاکر کے پاس سے ملی تھی۔

حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ پرگیہ ٹھاکر نے ہی بم دھماکے کی سازش کرنے والوں کو یہ بائیک فراہم کی تھی۔ حکام نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ پرگیہ ٹھاکر اس گروپ کا حصہ تھیں، جس میں سابق فوجی اہلکار اور ابھینو بھارت نامی ایک غیر معروف بنیاد پرست گروپ کے ارکان شامل تھے۔

آج اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ استغاثہ نے یہ تو کامیابی سے ثابت کیا کہ دھماکہ ہوا تھا، لیکن قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ بم موٹر سائیکل میں ہی نصب تھا۔

عدالت نے کہا "معاشرے کے خلاف ایک سنگین واقعہ ہوا۔ لیکن عدالت صرف اخلاقی بنیادوں پر کسی کو مجرم نہیں ٹھہرا سکتی۔"

عدالت نے یہ بھی کہا کہ گرچہ یہ الزامات ہیں کہ دھماکہ کرنے کے لیے آر ڈی ایکس کا استعمال کیا گیا، لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ آر ڈی ایکس لیفٹیننٹ کرنل پروہت کی رہائش گاہ پر ذخیرہ کی گئی تھی۔ اور نہ ہی اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ کرنل پروہت نے بم کو بنایا تھا۔

عدالت نے مزید کہا کہ اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ جو موٹر سائیکل بم کے لیے استعمال کی گئی، تھی وہ پرگیہ ٹھاکر کی ملکیت میں تھی۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ "دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، تاہم سزا اخلاقی بنیادوں پر نہیں دی جا سکتی۔"

ملزم کون تھے؟

پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت کے علاوہ جن دیگر ملزمان کو اس مقدمے سے بری کیا گیا ہے ان میں میجر (ریٹائرڈ) رمیش اپادھیائے، سدھاکر چترویدی، اجے رہیرکر، سدھاکر دھر دویدی عرف شنکراچاریہ اور سمیر کلکرنی کے نام بھی شامل ہیں۔

اے ٹی ایس نے دعویٰ کیا تھا کہ پرگیہ ٹھاکر، جنہیں 2008 میں گرفتار کر لیا گیا تھا، دھماکے میں استعمال کی گئی موٹر سائیکل کی مالک تھیں۔

اس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ لیفٹیننٹ کرنل پروہت، جو اس وقت ملٹری انٹیلیجنس میں تعینات ایک فوجی افسر تھے، نے دھماکہ خیز مواد کا بندوبست کرنے میں مدد کی تھی اور وہ ابھینو بھارت نامی ہندو تنظیم کے ساتھ ملاقاتوں کا حصہ تھے۔

تاہم جمعرات کو عدالت نے کہا کہ ریکارڈ پر کوئی ثبوت نہیں ہے کہ پروہت آر ڈی ایکس لانے کے ذمہ دار تھے۔ جج لاہوتی نے یہ بھی کہا کہ اس بات کا بھی کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کہ پرگیہ ٹھاکر گاڑی کی مالک تھیں۔

عدالت نے مزید کہا کہ پرگیہ ٹھاکر سنیاسی بن گئی تھیں اور دھماکے سے دو برس قبل ہی تمام مادی چیزیں ترک کر چکی تھیں۔

عدالت نے ابھینو بھارت نامی ہندو تنظیم کو بھی بری کر دیا اور کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ گروپ کسی "دہشت گردانہ سرگرمی" میں ملوث تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کوئی ثبوت نہیں ہے کہ کرنل پروہت اس بات کا کہا کہ اس عدالت نے کا کوئی یہ بھی کی تھی

پڑھیں:

جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی

کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔ اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم نے ملک بھر میں توانائی بچت مہم کے تحت کاروباری مراکز کی بندش کے نئے اوقات کار کی منظوری دے دی۔ کیبنٹ ڈویژن نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند کرنا ہوں گے۔ اسی طرح ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کی دکانوں کے لیے رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی، جس کے بعد انہیں بھی بند کرنا ہوگا۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ میڈیکل اسٹورز، آئی ٹی کمپنیاں، تندور، جمز اور فیول اسٹیشنز پر ان اوقات کار کی پابندی لاگو نہیں ہوگی اور وہ حسبِ معمول کام جاری رکھ سکیں گے۔ وفاقی حکومت نے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ توانائی کے استعمال میں کمی اور بجلی کی بچت کے قومی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد