صدر مملکت نے خاتون ملازمہ کو نازیبا میسج بھیجنے والے اسٹیٹ لائف کے افسر کی معافی کی اپیل مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اسٹیٹ لائف کے اسسٹنٹ جنرل منیجر کامران چنہ کو جبری ریٹائر کرنے اور متاثرہ خاتون عروج واحد کو 10 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
ترجمان فوسپاہ کے مطابق شکایت گزار عروج واحد نے کامران چنہ کے خلاف ڈیجیٹل ہراسانی کی شکایت درج کرائی تھی، جس میں واٹس ایپ اور دیگر ذرائع سے نازیبا پیغامات بھیجنے کے شواہد پیش کیے گئے۔
کارروائی کے دوران کامران چنہ نے ہراسانی کے الزامات کا اعتراف کیا اور متاثرہ خاتون اور ان کی والدہ سے غیر مشروط معافی مانگی۔
فوسپاہ نے ابتدائی طور پر کامران چنہ کو نوکری سے برطرف کرنے اور 3 لاکھ روپے ہرجانے کی سزا سنائی تھی۔ تاہم، کامران چنہ نے اس فیصلے کو صدرِ پاکستان کے پاس چیلنج کیا۔
صدر مملکت نے دونوں فریقین کو سننے کے بعد وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت فوزیہ وقار کے فیصلے کو درست قرار دیا اور برطرفی کی سزا کو جبری ریٹائرمنٹ میں تبدیل کرتے ہوئے ہرجانے کی رقم 3 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دی۔
صدرِ پاکستان نے متاثرہ خاتون عروج واحد کو اسٹیٹ لائف میں دوبارہ ملازمت دینے کی بھی ہدایت دی۔ترجمان فوسپاہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے بچانے کے لیے ایک اہم اور مثال قائم کرنے والا قدم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کامران چنہ
پڑھیں:
ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے اپنے ڈیٹا بیس میں مبینہ نقب زنی اور ریکارڈ لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ۔ ایچ ای سی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمیشن نے ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس سے معلومات لیک ہو گئی ہیں۔ بیان کے مطابق ایچ ای سی کے سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آن لائن گردش کرنے والے نمونہ ریکارڈز کا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایچ ای سی کے مطابق اس کے مرکزی نظام اور ریکارڈ کی سکیورٹی برقرار ہے اور کسی قسم کے ڈیٹا بریچ یا حساس معلومات کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔(جاری ہے)
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام اور طلبہ بلا تصدیق معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات کو ہی اہمیت دیں۔ ایچ ای سی نے شہریوں، طلبہ اور متعلقہ حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس طرح کی غلط معلومات عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی ریکارڈ، ڈگری اٹیسٹیشن اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید سائبر سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔